Alaaim Nahi, Illat Ka Ilaj
علایم نہیں، علت کا علاج
قوموں کے زوال کی داستان ہمیشہ کسی ایک حادثے سے شروع نہیں ہوتی، کبھی فکری جمود، کبھی انتظامی کمزوری، کبھی اخلاقی انحطاط اور کبھی قومی وسائل کے بے مصرف استعمال سے ایک ایسا بحران جنم لیتا ہے جو وقت کے ساتھ پوری اجتماعی زندگی کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ معیشت کی ناتوانی، قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، مہنگائی، بے روزگاری اور بیرونی سہاروں پر انحصار بظاہر الگ الگ مسائل ہیں، مگر درحقیقت ایک ہی بنیادی مرض کی مختلف علامات ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم برسوں سے علامات کو دبانے کی کوشش کرتے رہے، علت تک پہنچنے سے گریز کیا۔ قرض لے کر قرض اتارنا، وقتی مالیاتی سہارا حاصل کرنا اور عارضی اقدامات کو اصلاحات کا نام دینا کسی بیمار معیشت کا مستقل علاج نہیں۔ طبِ انسانی ہو یا حکمتِ اجتماعی، جب تک مرض کی اصل تشخیص نہ ہو، علاج محض ایک وقتی تسکین بن کر رہ جاتا ہے۔
اس مرض کی جڑوں میں ہمارے نظامِ حکمرانی کی ساخت بھی شامل ہے۔ جب منصب اہلیت کے بجائے وابستگی، قرابت یا سیاسی مصلحت کی بنیاد پر تقسیم ہونے لگیں تو صلاحیت پس منظر میں چلی جاتی ہے اور ریاستی اختیار اپنی اصل غایت کھو دیتا ہے۔ ریاست محض دفاتر، قوانین اور عہدوں کا مجموعہ نہیں، یہ علم، عدل، امانت اور اجتماعی ذمہ داری سے تشکیل پانے والا ایک زندہ نظام ہے۔ اکیسویں صدی میں مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی علوم، جدید صنعت، توانائی اور تحقیق قومی قوت کے نئے پیمانے متعین کر رہے ہیں۔ ایسے عہد میں غیر پیشہ........
