50 Dollar Se 200 Million Dollar Ka Safar
پچاس ڈالر سے دو سو ملین ڈالر کا سفر
اسے بچپن سے ہی شدید ہکلاہٹ کا مسئلہ تھا۔ اسکا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا جو مغربی ورجینیا میں آباد تھا۔ اسکا باپ ایک کوئلے کی کان میں کام کرتا تھا۔ ہکلاہٹ کی وجہ سے لوگوں سے بات کرنا اس کے لیے انتہائی مشکل تھا اور دنیا کو فیس کرنے سے کتراتا تھا اور ہمیشہ سہاروں کی تلاش میں رہتا تھا۔ بظاہر اس بچے میں کوئی غیر معمولی صلاحیت بھی نظر نہ آتی تھی۔ اس ہکلاہٹ کو وجہ سے اسے سکول اور دیگر جگہوں پریشانی، خوف اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا۔
سکول کے بچے اسے "وا۔ وا۔ ووم" (Va. Va. Voom) کے نام سے چھیڑتے تھے کیونکہ وہ "وولکینو" (volcano) لفظ ادا کرنے کی کوشش میں "v" (وی) کے تلفظ پر بری طرح اٹک جاتا تھا۔ پھر قدرت کو اس پر رحم آگیا۔ جب وہ چھٹی جماعت میں تھا، تو ایک دن اس بچے کی سکول کی ٹیچر نے کلاس کوایک اسائنمنٹ دی کہ وہ اپنا نام لکھیں اور یہ بتائیں کہ بڑے ہو کروہ کیا بننا چاہتے ہیں۔ سب نے اپنے مستقبل کے حوالے سے لکھا کہ وہ انجئنیر، ڈاکٹر، وکیل اور دیگر شعبوں کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔ اس بچے نے لکھا: میں ٹی وی پر آنا چاہتا ہوں" اور بچے قہقہے لگاتے ہوئے اسکی نقل کرنے لگے۔ رہی سہی کسر اس کی استانی نے پوری کر دی اور اسے کلاس کے سامنے بلایا کہ وہ ہکلانے والا بچہ ٹی وی پر آنے کے خواب دیکھتا ہے۔
اس کے خواب کا خوب مذاق اڑایا، اس کی ہکلاہٹ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: "ذرا خود کو تو دیکھو، تم ٹھیک سے بات بھی نہیں کر سکتے۔ بھلا تم جیسے شخص کو ٹی وی پر کون لے گا؟" اس پر بھی اس ٹیچر کی تسلی نہ ہوئی تو اس بچے کی ماں کو یہ اطلاع بھیج دی۔ جب یہ بچہ گھر گیا تو اس کی ماں نے سارا ماجرہ سنا اور اس کاغذ کو دیکھا تو پریشان ہوگئی کہ اسکا بیٹا اس ہکلاہٹ کے ساتھ مستقبل کے بارے میں کیسے خواب دیکھتا ہے۔ جب یہ بات بچے کے والد کو بتائی گئی اس نے بچے کو ساری بات بہت غور سے سنی اور اس سے دوبارہ دریافت کیا کہ کیا وہ اس معاملے میں واقعی سنجیدہ ہے۔
جب اس دس سال کے بچے نے بلا تامل ہاں کہا تب اس کے والد نے اس کا ساتھ دیا اور اس سے کہا کہ وہ اس کاغذ کو سنبھال کر میز کی دراز میں رکھ دے اور ہر روز صبح اٹھتے ہی اس کو غور سے دیکھے اور بلند آواز میں پڑھے اور شام سونے سے پہلے بھی اس کو غور سے دیکھے اور بلند آواز میں پڑھے۔ باپ کو اس نصیحت نے اس بچے کا دماغ جیسے جکڑ لیا۔ یہ اس کی زندگی کا ٹرننگ پوائینٹ تھا۔ اس کی جب آنکھ کھلتی تھی تو اسے اپنے باپ کی آواز یاد دلاتی تھی وہ بچہ دن رات ٹی وی پر آنے کے خواب کو زندہ رہتا دیکھتا تھا۔
اس سفر تک پہنچنے کیلئے اس کو اٹھارا سال........
