Shohrat Ki Hawas, Social Media Aur Vloggers Ka Kirdar
شہرت کی ہوس، سوشل میڈیا اور وی لاگرز کا کردار
کسی بھی معاشرے کی پہچان اس کی تہذیب، رہن سہن، اخلاقی اقدار، خاندانی نظام اور طرزِ زندگی سے ہوتی ہے۔ اب وقت بہت بدل گیا ہے جہاں ترقی کی راہ میں ٹیکنالوجی نے اپنا اہم کردار ادا کیا ہے وہیں ہمارے کردار، اخلاق، تعلیم و تربیت، رویوں کا معیار گر گیا ہے۔ کوئی بھی قوم جتنی مرضی ترقی کر جائے اگر وہ مہذب نہیں ہے تو ایسی ترقی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہوگا کہ تعلیم تو حاصل کر لی جائے لیکن اس علم پر عمل نہ کیا جائے۔ آج تو وہ وقت ہے جب ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل ہے اور وہ وڈیو بنانے میں لگا رہتا ہے جہاں کچھ ہوا نہیں فوراً موبائل سے وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی جو چند سیکنڈ میں وائرل ہو جاتی ہے۔ کئی ایسے واقعات ہیں جن میں سچائی نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہوتی۔
آج کے اس ڈیجیٹل دور میں جہاں بہت آسانیاں ہوئی ہیں وہیں ہمیں کئی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں سرِ فہرست سستی شہرت ہے کیونکہ اس کے لیے محنت اور صبر نہیں کرنا پڑتا۔ جیسا کہ آج کل کے کئی وی لاگرز ہیں جو چند ہزار ویوز و لائک اور مقبولیت کے لیے اپنی نجی زندگی کی حدود کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ گھر کے اندر کی ایسی باتیں جو کسی اور کو معلوم نہیں ہونی چاہیے تھی اب وہ گھر گھر پہنچ رہی ہیں۔ میاں بیوی کے تعلقات جو باہمی عزت و احترام، پیار و محبت پر مبنی ہوتے ہیں وہ اپنی حدود بھول گئے ہیں۔ سچ اور جھوٹ کی پہچان نہیں رہی۔ عزت کو ایسے پامال کیا جا رہا ہے جیسے اس کی کوئی وقعت ہی نہیں ہے۔ پہلے جو کہا جاتا تھا کہ عزت کمانے میں ساری عمر لگ جاتی ہے اب وہی عزت یہ لاپرواہ وی لاگرز خود اپنے ہاتھوں سے برباد کر رہے ہیں۔ شادی بیاہ پر اسراف سے لے کر طلاق تک کی ہر خبر ہر گھر میں خود پہنچاتے ہیں۔ خود کو خود ہی تماشا بنا رہے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان کو اس بات کا احساس تک نہیں ہے۔
مانا کہ سوشل میڈیا ایک جدید ایجاد ہے اور آج کے دور میں ضرورت بھی بن گئی ہے۔ اس سے دنیا سمٹ کر بہت قریب ہوگئی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس پلیٹ فارم نے معلومات حاصل کرنا جہاں........
