Faisla Hamara Hota Hai Ya Halaat Ka?
فیصلہ ہمارا ہوتا ہے یا حالات کا؟
زندگی شاید دراصل فیصلوں ہی کا دوسرا نام ہے۔ ہم ہر روز، ہر ساعت، شعوری یا غیر شعوری طور پر کسی نہ کسی فیصلے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ کبھی یہ فیصلہ معمولی ہوتا ہے کہ آج کہاں جانا ہے، کیا پہننا ہے، کس سے ملنا ہے اور کبھی یہی فیصلہ زندگی کی سمت متعین کر دیتا ہے۔ کسی سے شادی کرنی ہے یا نہیں، کسی شہر میں رہنا ہے یا ہجرت کرنی ہے، کسی رشتے کو نبھانا ہے یا ختم کرنا ہے، کسی موقع کو قبول کرنا ہے یا ٹھکرا دینا ہے۔ بظاہر یہ چند لمحوں کے فیصلے ہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات برسوں، کبھی پوری عمر تک ہمارے ساتھ چلتے ہیں۔ ہم فیصلے کرتے وقت کتنے باشعور ہوتے ہیں؟ کیا ہم واقعی فیصلہ کرتے ہیں یا ہماری جلد بازی، غصہ، خوشی، خوف، ضد اور دوسروں کی رائے ہمارے نام پر فیصلے کر رہی ہوتی ہے؟
انسانی نفسیات کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر دو انتہاؤں کے درمیان جھولتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ فیصلہ کرنے میں اتنی دیر لگا دیتے ہیں کہ فیصلہ خود اپنی معنویت کھو بیٹھتا ہے اور کچھ لوگ اتنی عجلت کرتے ہیں کہ سوچنے کے لیے ایک لمحہ بھی نہیں دیتے۔ اہم فیصلوں کے لمحے میں انسان کے اندر ایک خاموش مکالمہ شروع ہوتا ہے۔ دل کچھ کہتا ہے، دماغ کچھ سوچتا ہے، تجربہ کچھ یاد دلاتا ہے اور جذبات اپنی پوری شدت کے ساتھ انسان کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ کبھی اندر سے ایک آواز آتی ہے کہ رک جاؤ، ذرا سوچو اور کبھی دوسری آواز کہتی ہے کہ یہی وقت ہے، آگے بڑھو۔ یہ اندرونی کشمکش دراصل انسانی شعور کی علامت ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر اس آواز کو سننے کے بجائے شور میں فیصلہ کر لیتے ہیں۔ خوشی میں وعدہ کر بیٹھتے ہیں، غصے میں رشتہ توڑ دیتے ہیں، خوف میں موقع گنوا دیتے ہیں اور تنہائی میں ایسے لوگوں پر اعتبار کر لیتے ہیں جنہیں شاید عام حالات میں ہم کبھی اپنا راز بھی نہ بتاتے۔
بعض اوقات رک جانا بزدلی نہیں، دانائی ہوتی ہے۔ ایک لمحے کی خاموشی کئی برس کی پشیمانی سے بچا سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ فیصلے جن میں زندگی کے بڑے حصے وابستہ ہوں، ان کے لیے جذبات کی شدت نہیں، ذہن کی وضاحت درکار ہوتی ہے۔ شادی کا فیصلہ ہو، کاروبار کا، ملازمت کا، ہجرت کا یا کسی بڑے تعلق کو........
