Aik Aur Charter Of Democracy Ki Zaroorat
ایک اور چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت
تحریک انصاف کا لانگ مارچ اور حکومتی منصوبہ بندی، دونوں آمنے سامنے ہیں، راستے کنٹینرز سے بھی بند کیے گئے اور دھمکیوں سے بھی مگر پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت اور اس کے کارکنان، اس بات پر مصر ہیں کہ ان کے مطالبات پورے ہونے تک، پرامن احتجاج اور لانگ مارچ جاری رہے گا، حکومت ان مطالبات کو ماننے کی بجائے غیر مشروط لانگ مارچ کا خاتمہ چاہتی ہے جب کہ سہیل آفریدی گروپ، اپنے مطالبات کی منظوری تک، لانگ مارچ سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتا۔
میں نے یہاں سہیل آفریدی کے ساتھ "گروپ "کا لفظ دانستہ لگایا ہے اور اس کی بنیادی وجہ تحریک انصاف کا وہ صوبائی گروپ ہے جو اس لانگ مارچ کی حمایت نہیں کر رہا، مرکزی قیادت میں بھی کئی اہم لوگ سہیل آفریدی کو لچک دکھانے کا مشورہ دے رہے ہیں مگر سہیل آفریدی پر وزارت اعلیٰ کا جادو، سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ایک ایسی سیاسی پارٹی جس کے ورکرز، قائدین اور سپورٹرز کو دن دیہاڑے ہراساں کیا گیا ہو، انھیں گھروں سے اٹھایا گیاہو۔ جس سیاسی پارٹی نے 2024ء کے الیکشن میں پندرہ سیاسی جماعتوں کا صفایا کر دیا، اس کے چیئرمین، اس کی بیوی، بہنوں، فیملی ممبران اور کزنز، سب کو جیل میں بند کر دیا گیا ہو، ووٹرز اور سپورٹرز پر جو قیامت گزری، وہ الگ کہانی ہے، ایسے میں اس پارٹی کی صوبائی حکومت اگر احتجاج نہیں کرے گی، اپنے سیاسی قیدیوں کی غیر آئینی گرفتاری کی بات نہیں کرے گی، تو کون کرے گا مگر سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت میں موجود چند لوگ اس لانگ مارچ کو سپورٹ کیوں نہیں کر........
