menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mere Ustad

16 0
yesterday

کہتے ہیں، جس سے آپ ایک لفظ بھی سیکھ لیں، وہ آپ کا استاد ہوتا ہے۔ ہم ہر ایک سے کچھ نہ کچھ سیکھتے تو ہیں، اسی تعریف کی رُو سے دیکھیں، تو سبھی کا احترام کریں۔ ایسا ہو جاے، تو انسان کی تقدیر بدل جاے۔ رسمی تعلیم کی بات ہے، تو سب سے پہلے میری یادداشت میں مشنری اسکول ویسٹرج راول پنڈی اور دُبلی پتلی استانی کی تصویر ہے۔ میں نے اُن سے کیا سیکھا، یاد نہیں۔ فیڈرل گورنمنٹ بوائز اسکینڈری اسکول، آدمی جی روڈ راول پنڈی میں پرائمری کلاس کے ان چارج باجوہ صاحب، ان کے ہاتھ میں بید کی چھڑی ہوتی، جسے وہ مولا بخش کہتے تھے۔ اسی اسکول میں ایک استاد تھے، جو ممتاز صاحب کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ یہ اردو کا مضمون پڑھایا کرتے تھے، یہ میرے پہلے استاد ہیں، جنھوں نے الفاظ کے معنی سیکھنے کی طرف توجہ دلائی، نئے نئے الفاظ کی تلاش پر مائل کیا۔

اسکول زمانے میں کچھ عرصے، صابری خطاط کے یہاں جاتا رہا۔ میرے کالج کے ادوار میں شاہد اشتہاری بورڈ لکھا کرتے تھے، جب میں نے اُن کی........

© Daily Urdu (Blogs)