TK Boutique
انیس سو چھیانوے میں صاحب کی پوسٹنگ ملتان ہوئی، ملتان پہنچے اور ہماری باچھیں کھل گئیں۔ اچھے کپڑے پہننے کا بچپن سے شوق تھا اور کپڑوں پہ کڑھائی کا اس سے بھی زیادہ۔ امی اور باجی دونوں کو کڑھائی آتی تھی سو کبھی کبھار وہ گلے پہ کچھ پھول بنا دیتیں۔ مشینی کڑھائی کی مشینیں ہوتیں تھیں مگر ان کا کام بھی آؤٹ سٹینڈنگ نہیں تھا۔
برینڈز میں گل احمد کی لان اور اس کے خوبصورت پرنٹس تو تھے مگر ہمارے ذوق کے لیے کافی نہیں تھے۔ دوسرے ہمیں ڈیزائننگ کرنے کا بھی بہت شوق تھا کہ ایسا کپڑا پہنیں جو اور کسی کے پاس نہ ہو۔ ملتان میں ہماری ملاقات ان عورتوں سے ہوئی جو فنکار تھیں جن کی انگلیوں کی پوریں جب ٹانکہ لیتی تھیں تو یقین نہیں آتا تھا کہ اس قدر نفاست بھی ہو سکتی ہے۔
تب ہم نے شروع کیا ٹی کے بوتیک، یاد رہے کہ ہم گائینی پارٹ ٹو کے ٹرینی تھے۔ نشتر سے نکلتے تو تنگ سڑکوں سے ہوتے ہوئے بوہڑ گیٹ اور کالے منڈی کی پیچ دار گلیوں میں گھس جاتے جہاں ہر کپڑا بازار کے ریٹ سے سستا ملتا تھا۔ وہاں تک گاڑی لے جانا بھی ایک مسئلہ تھا مگر........
