menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Professional Ghareeb

41 0
06.07.2026

غربت، بیروزگاری اور ناخواندگی کے مسائل ہمارے ہاں حقیقی ہیں لیکن کچھ غریب پروفیشنل غریب بھی ہیں۔ یعنی وہ اسی حال میں رہنا پسند کرتے ہیں کام کرنا یا ہاتھ پاؤں مارنا ان کو پسند نہیں آتا۔ ایسے غریبوں کی آپ جتنی بھی مدد کر دیں یا ان کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی جتنی بھی کوششیں کر لیں وہ کچھ عرصے بعد پھر وہیں ہوں گے۔ ہاتھ پھیلانے میں بالکل عار نہیں سمجھتے اور جو شخص ایک بار کسی صاحب حیثیت سے مدد حاصل کر چکا ہو وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ میرا اس معاملے میں ذاتی تجربہ رہا ہے۔ اس کے بعد نچوڑ نکالا کہ ہر غریب آپ کی مدد اور آپ کے وسائل کا مستحق نہیں ہوتا۔ کسی کی مدد سے پہلے اس کی باڈی لینگوئج اور محنت مشقت کی لگن بھی پرکھ لو کہ اگلا خود بدلنا بھی چاہتا ہے یا نہیں یا اس کا ٹریک ریکارڈ یا ہسٹری کیا کہتی ہے۔

بہت سے پروفیشنل غریب ایسے بھی ہیں جو سوشل میڈیا پر پیکج لگا کر بیٹھے ہیں۔ آئے روز مجھے انجان پروفائلز سے بہت سی دُکھی تصاویر اور لمبی داستانیں انباکس میں وصول ہوتی ہیں۔ بعضے بعضے تو اپنی داستان میں نام بدلنے کا تکلف بھی نہیں کرتے۔ یعنی ایک ہی لمبا ٹیکسٹ لکھا ہوتا ہے کسی کے نام اور وہی سو ڈیڑھ سو لوگوں کو ٹارگٹ کرکے بھیج دیتے ہیں نام بھی نہیں بدلتے۔ ان کا بھی چل جاتا ہوگا۔ اس بھری دنیا میں سینکڑوں افراد کو میسج بھیج کر کوئی اکا دکا بندہ مان ہی جاتا ہوگا۔ کم خرچ بالا نشیں۔ یہ چسکا ہی الگ ہوتا ہے۔

مسائل حقیقی ہیں، میسجز بھی حقیقی ہوتے ہوں گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سچ نہیں ہوتا ہوگا۔ اگر حقیقی مسئلہ ہے تو اپنے جاننے والوں، اپنے شناسا افراد سے اپنے گردا گرد بستے لوگوں سے مالی مدد طلب کریں۔ اپنے کولیگز سے کریں اپنے خاندان سے کریں۔ مگر ایسا نہیں ہوتا اور انجان یا ناشناسا افراد سے مدد کرنے کو اپیل کرتے ہیں۔ اکثر یہ پیغام ہوتا ہے کہ........

© Daily Urdu (Blogs)