menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Molana Ki Siasat

31 0
16.07.2026

پاکستانی سیاست میں کئی عجب روایات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب بھی مقتدرہ سے شکوہ کرنا ہو تو توپ کا رخ ہمیشہ فوجی جوان کی طرف موڑ دو جس کے ہاتھ میں پالیسی سازی تو ہرگز نہیں ہوتی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اس بار کچھ ایسا ہی کیا۔ غصہ غالباً اسٹیبلشمنٹ پر تھا مگر نشانہ وہ فوجی جوان بن گیا جو یا تو برفانی چوکی میں بیٹھا ہوا ہے، یا بلوچستان کے کسی پہاڑ میں بارودی سرنگوں سے بچتا پھر رہا ہے، یا کسی سرحدی گاؤں میں دہشت گردوں کے تعاقب میں اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے۔ پاکستان میں بڑے لوگوں کا غصہ اکثر چھوٹے لوگوں پر ہی اترتا ہے۔ جرنیل ناراض ہو تو وزیراعظم مارا جاتا ہے اور اگر سیاست دان ناراض ہو تو فوجی سپاہی۔

اس میں شک نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت اتنی ہی پرانی ہے جتنا ریڈیو پاکستان کا وہ اعلان کہ "ملک کے وسیع تر مفاد میں"۔۔ ہر چند برس بعد آئین کو لپیٹ کے الماری میں رکھ دیا جاتا ہے، سیاست دانوں کو تراشا جاتا ہے، جماعتیں بنائی جاتی ہیں،........

© Daily Urdu (Blogs)