Mojuda Irani Surat e Haal
ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض پرتشدد احتجاج نہیں بلکہ ایک پرانی فلم کی نئی قسط ہے۔ اس فلم کا اسکرپٹ واشنگٹن میں لکھا جاتا ہے، ہدایت کاری خطے کے حالات کرتے ہیں اور اداکاری مقامی عوام کے حصے میں آتی ہے جبکہ انجام ہمیشہ وہی ہوتا ہے۔۔ انتشار، لاشیں، بیانات اور پھر فوجی گھونسا۔
سپریم لیڈر خامنہ ای صاحب کا یہ کہنا کہ "شرپسند امریکی صدر کو خوش کرنا چاہتے ہیں" بظاہر ایک گھسا پٹا جملہ لگتا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ تاریخ نے اسے بارہا درست ثابت کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اگر کہیں آگ لگتی ہے تو اس کے اردگرد امریکی جیو اسٹریٹیجک ماچس کے خالی ڈبے ضرور ملتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ احتجاج پہلے مہنگائی پر تھا، پھر نظام پر آ گیا اور اب بادشاہت کی بحالی کے نعروں تک جا پہنچا ہے۔ یعنی وہی پرانا مشرقی نسخہ۔ پہلے "روٹی مہنگی" سے شروع ہوتا "نظام ناکام ہے" تک پہنچتا ہے اور پھر "کوئی نجات دہندہ چاہیے" کی دُھن پکڑتا "ماضی سنہرا تھا" کی تال پر تھڑکتے ہوئے "آؤ بادشاہ کو واپس بلائیں" پر منتہج ہوتا ہے۔ یہ وہی بادشاہت ہے جسے ایرانی عوام نے سنہ 1979 میں اس شوق سے دفن کیا تھا کہ اب اس کی قبر پر بھی پھول نہیں........
