Kuch Na Samjhe Khuda Kare Koi
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
مولانا فضل الرحمٰن کو میں سیاست کا بے تاج بادشاہ مانتا ہوں۔ مفتی محمود مرحوم سے انہوں نے وراثت میں جو سیاسی ورثہ پایا سو پایا لیکن وہ اپنے بل بوتے پر ترقی کرتے بہت آگے تک گئے ہیں۔ آپ صرف یہ دیکھیں کہ پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جس کے ساتھ وہ اتحادی رہتے ہوئے حکومتوں میں حصہ دار نہ رہے ہوں اور جس کے خلاف وہ بولے نہ ہوں۔ بیک وقت پانچ گیندیں ہوا میں اچھالنے پر قادر ہیں اور کسی گیند کو گرنے نہیں دیتے۔
ایک زمانے تک مولانا اپنے حریف خان صاحب کو یہودی ایجنٹ کہتے رہے اور اس پارٹی کو ووٹ دینا حرام قرار دیتے تھے۔ جواباً عمران خان بھی مولانا کو مولانا کہنا گناہ سمجھتے تھے اور ان کو بینظیر دور میں ڈیزل پرمٹ لینے کی بنا پر ڈیزل کہتے بلکہ کئی بار اپنے جلسوں کا آغاز ہی ڈیزل ڈیزل کے نعروں سے فرماتے۔ آج یہ دو حریف ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ سو تین ہی صورتیں ممکن ہیں۔ یا دونوں فریق ایک دوسرے کی بابت سچے تھے۔ یا دونوں جھوٹے........
