Ikhtiyar Milne Par Kya Kya?
اختیار ملنے پر کیا کیا؟
ہمارے ہاں ایک عجیب عادت ہے۔ ہم ہر چیز کا فیصلہ ہجوم سے کرتے ہیں۔ جلسہ بڑا ہو تو لیڈر بڑا، نامور زیادہ ہو تو دانشور بڑا اور اگر جنازہ بڑا ہو تو مرحوم بخشے بخشائے قرار پاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قیامت کے دن میزانِ عدل کی جگہ ڈرون کیمرے سے لی گئی فضائی ویڈیو پیش کی جائے گی اور فرشتے کہیں گے کہ دیکھ لیجیے اتنے لاکھ لوگ شریک ہوئے تھے، فیصلہ آسان ہے۔
ہجوم محبت کی دلیل تو ہو سکتا ہے، مقبولیت اثر و رسوخ کا ثبوت ہو سکتی ہے، مگر صداقت کی سند نہیں۔ یہ سوچ نئی نہیں۔ ہر دور میں لوگ تعداد کو سچائی سمجھنے کی غلطی کرتے رہے ہیں حالانکہ تاریخ بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ ہجوم کبھی بھی حق کا ترازو نہیں رہا۔ اگر جنازوں کی تعداد ہی حق و باطل کا پیمانہ ہوتی تو پھر کربلا کے میدان میں شہید ہونے والوں کے حق میں کون سی عوامی ریلی تھی؟ کون سا جلوس تھا؟ کون سا عظیم جنازہ تھا؟ نہ لاکھوں کا مجمع، نہ پھولوں کی بارش، نہ سرکاری سوگ۔ صرف چند لاشیں تھیں، جلتے ہوئے خیمے تھے اور ایک ایسی خاموشی تھی جس کی گونج چودہ سو برس بعد بھی سنائی دیتی ہے۔
مصر کے صدر بلکہ آمر جمال عبدالناصر کے جنازے میں بھی لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ قاہرہ انسانوں سے بھر گیا۔ چالیس سے پچاس لاکھ افراد نے انہیں آخری سلام پیش کیا۔ اسی طرح الجزائر کی گلوکارہ جس کی آواز نے........
