Aam Aadmi Khofzada Hai
کہتے ہیں کہ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں، بلند و بالا عمارتوں یا وسیع شاہراہوں میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے جو ایک عام شہری اپنے ملک، اپنے آئین اور اپنے ریاستی نظام پر رکھتا ہے۔ جب ایک مزدور شام کو گھر لوٹتے ہوئے مطمئن ہو کہ اس کے بچوں کی تعلیم متاثر نہیں ہوگی، ایک کسان کو اپنی فصل کا مناسب معاوضہ ملے گا، ایک ملازم کو اپنی ملازمت اور عزتِ نفس کا تحفظ حاصل ہوگا اور ایک نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہوگا، تب ہی ایک ریاست حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست کہلانے کی مستحق بنتی ہے۔
مہذب دنیا نے اس حقیقت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا کہ ترقی کا اصل معیار معاشی اعداد و شمار نہیں بلکہ انسان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ، کینیڈا، یورپی ممالک، متحدہ عرب امارات اور دیگر ترقی یافتہ ریاستیں اپنے شہریوں کو بہترین تعلیم، معیاری صحت، سماجی تحفظ، شفاف انصاف اور باعزت روزگار کی فراہمی کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔ وہاں حکومتیں عوام سے ٹیکس ضرور وصول کرتی ہیں، لیکن انہی وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔ یہی اعتماد ریاست اور شہری کے تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔
پاکستان بھی وسائل، صلاحیتوں اور باہمت عوام سے مالا مال ملک ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں مختلف شعبوں میں اصلاحات، ڈیجیٹل نظام، سماجی تحفظ کے پروگرام اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کوششوں کو تسلسل، شفافیت اور مؤثر عمل........
