menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sawal Ki Saza, Sukoot Ki Mohlat

25 0
27.10.2026

سوال کی سزا، سکوت کی مہلت

اسٹاف روم کا دروازہ کھلتا ہے اور گفتگو دم توڑ دیتی ہے۔ پیالیاں ہونٹوں تک پہنچتے پہنچتے رک جاتی ہیں۔ کوئی موبائل میں گم ہو جاتا ہے، کسی کو اچانک موسم میں دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔ دروازے میں کھڑا شخص اس خاموشی کو یوں پڑھ لیتا ہے جیسے اپنے نام کی تختی پڑھی جاتی ہے۔ کل تک وہ "پروفیسر صاحب" تھا، آج "ایک کیس" ہے اور سچ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر نے ایسی ہی خاموشی میں چائے کی کئی پیالیاں ختم کی ہیں۔ اس لمحے وہ چائے کتنی کڑوی ہونی چاہیے تھی اور کتنی میٹھی لگی؟

اس کا قصور؟ ایک سوال۔ کیا سلیکشن بورڈ ضابطے کے مطابق بلایا گیا تھا؟ فلاں تقرری کی شرائط سب امیدواروں پر یکساں کیوں لاگو نہیں ہوئیں؟ بعض اداروں میں ناقابلِ معافی سوال بس ایک ہی ہوتا ہے: وہ جس کا سچا جواب سب کو پہلے سے معلوم ہو۔

پھر، گویا اشارہ پاتے ہی، اسی پندرہ دن میں ایک شکایت سامنے آ جاتی ہے۔ وہ سچی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ انکوائری کرے گی اور بجا طور پر کرے گی۔ مگر ایک چیز انکوائری کا انتظار نہیں کرتی: لفظ۔ ہمارے معاشرے میں "ہراسانی" کا لفظ خود ایک سزا ہے اور سرکاری نوٹس سے پہلے پہنچ جاتا ہے۔ یہ راہداریوں سے گزرتا ہے، چائے کی میزوں پر پھرتا ہے، واٹس ایپ گروپوں میں اڑتا ہے اور آخرکار اس شخص سے پہلے اس کے گھر جا پہنچتا ہے۔ کبھی یہ خود نہیں پہنچتا، پہنچایا جاتا ہے: چند خبریں، چند پوسٹیں، کچھ "ذرائع" جن کے نام کبھی سامنے نہیں آتے مگر جن کے وسائل ہمیشہ نظر آتے ہیں۔ جب ایسی مہم پر خود ادارے کی انگلیوں کے نشان ہوں تو مقابلہ ایک آدمی اور ایک مشین کا ہوتا ہے اور مشینیں تھکا نہیں کرتیں۔

بات صاف کر دوں۔ ہراسانی کی حقیقی شکایت کمزور کے ہاتھ میں ڈھال ہے اور اس کی غیر جانب دارانہ تحقیق ایک مقدس فرض۔ لیکن اسی ڈھال کو کسی ناپسندیدہ ساتھی کے خلاف تلوار بنا لیا جائے تو نقصان صرف اسی ایک شخص تک محدود نہیں رہتا، اس کی زد ہر اس شخص پر پڑتی ہے جسے کل واقعی اس ڈھال کی ضرورت پڑے گی۔ ہر انتظامیہ ایسی نہیں ہوتی اور ہر شکایت جھوٹی بھی نہیں ہوتی۔ بعض سربراہانِ ادارہ تمام شور شرابے کے باوجود اصول پر قائم رہتے ہیں۔ مگر جو مہم سچ کی تلاش میں نہ ہو، وہ سچ کی توہین ہے۔

اور اس راہداری میں دروازے ایک سے زیادہ ہیں۔ اسی منزل پر ایک اور........

© Daily Urdu (Blogs)