menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Wafadari Ki Saza (2)

27 0
07.06.2026

پچھلی قسط میں ہم نے اس تلخ حقیقت پر بات کی تھی کہ گلگت بلتستان کے لوگ گزشتہ اناسی برسوں سے اپنی بے لوث وفاداری کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، ایک ایسی وفاداری جس کے بدلے میں انہیں مکمل آئینی شناخت بااختیار نمائندگی اور بنیادی سیاسی حقوق آج تک نہیں مل سکے۔ مگر کہانی صرف اتنی نہیں اس داستان کا ایک اور باب بھی ہے اور شاید زیادہ دردناک باب۔ یہ باب سوالوں کا ہے وہ سوال جو کبھی پوچھے ہی نہیں گئے وہ سوال جو پوچھنے چاہیئے تھے مگر نعروں کے شور میں دب گئے وہ سوال جو ہر الیکشن کے بعد عوام کے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں مگر اگلے الیکشن تک کہیں گم ہو جاتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں انتخابات کا موسم ہمیشہ بہار کی طرح آتا ہے۔ سڑکیں اچانک اہم ہو جاتی ہیں عوام اچانک عزیز ہو جاتے ہیں، جلسے شروع ہو جاتے ہیں قافلے نکل آتے ہیں اور وعدوں کی فصل اگنا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وفاق کو یک دم یاد آ جاتا ہے کہ شمالی پہاڑوں کے درمیان بھی کچھ لوگ بستے ہیں جنہیں کبھی کبھی خوشخبریاں سنانا ضروری ہوتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ خوشخبریاں صرف انتخابات کے موسم میں ہی کیوں پیدا ہوتی ہیں؟

گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی ہو رہا ہے۔ ہر الیکشن میں نئے وعدے نئے دعوے نئی امیدیں اور نئے خواب کبھی بجلی کے منصوبے کبھی ترقی کے منصوبے، کبھی روزگار کے وعدے اور کبھی آئینی حقوق کی نوید۔ لیکن جب انتخابات گزر جاتے ہیں تو وعدے بھی رخصت ہو جاتے ہیں اور عوام بھی........

© Daily Urdu (Blogs)