Taqat Ka Fareb Aur Sura e Feel Ka Sabaq
طاقت کا فریب اور سورۂ فیل کا سبق
تاریخ کا ایک عجیب مزاج ہے وہ طاقت کے بتوں کو زیادہ دیر تک قائم نہیں رہنے دیتی کبھی ابرہہ ہاتھیوں کا ایک عظیم لشکر لے کر آیا تھا اسے یقین تھا کہ طاقت ہی حق ہے اور قوت ہی فیصلہ کرتی ہے اسکے پاس منصوبہ بھی تھا۔ فوج بھی تھی وسائل بھی تھے اور غرور بھی تھا وہ خانہ کعبہ کو گرانے نکلا تھا جیسے یہ کوئی معمولی سا عسکری ہدف ہو مگر دوسری طرف نہ کوئی باقاعدہ فوج تھی نہ جنگی تیاری نہ ظاہری طاقت کے مظاہر۔ بظاہر یہ مقابلہ ہی نہیں تھا لیکن پھر وہ ہوا جو انسانی منطق کے تمام حساب کتاب کو توڑ دیتا ہے آسمان سے آنے والے چھوٹے چھوٹے پرندے ابابیل ایک ایسے نظام کے تحت ظاہر ہوئے جسے انسان پوری طرح سمجھ نہیں سکتا اور وہ عظیم لشکر جو اپنے آپ کو ناقابلِ شکست سمجھ رہا تھا چند لمحوں میں تاریخ کا حصہ بن گیا۔
سورۂ فیل صرف ایک واقعہ نہیں یہ انسان کو طاقت اور غرور کی حقیقت سمجھانے والی دائمی داستان ہے۔ آج کا انسان سب کچھ جاننے کے باوجود بھی وہی کچھ کر رہا ہے جو اس سے نہیں کرنا چاہئے۔ وقت سامنے ہیں حقیقت سے بھی آشکار ہے مگر کیا کرے انسان نفس شیطانی اور روش غرور میں حقیقت سے منہ موڑ کر طاقت غرور میں انسانیت سے بھی گرجاتا ہے۔ آج مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ایک طرف وہ ملک ہے جو دہائیوں سے اقتصادی پابندیوں سفارتی دباؤ اور عالمی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے لیکن پھر بھی اپنے مؤقف پر قائم نظر آتا ہے۔
دوسری طرف ایسے ممالک بھی ہیں جو وسائل فوجی طاقت اور ایٹمی صلاحیت رکھنے کے باوجود عالمی طاقتوں کے اشاروں کے منتظر دکھائی دیتے ہیں بلکہ ان کے حکم پر تسلیم خم نظر آتے ہیں یہ فرق صرف ہتھیاروں کا نہیں یہ فرق قومی خودداری اجتماعی اعتماد اور سیاسی عزم کا بھی........
