menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sargodha Mein Zulm Hua

29 0
29.06.2026

آٹھ سال کی معصوم منتہا عمر کے اس حصہ میں تھی جب بچیاں تتلیوں کی طرح اڑتی پھرتی ہیں اور گھر سمیت اہل محلہ بھی ایسی بچیوں کو شفقت سے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ وہ بچیاں جو کبھی سب کی سانجھی ہوا کرتی تھیں لیکن آج معصوم اور خوبصورت پھولوں کو مسلنے کا جانے کہاں سے منحوس دور آگیا ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ میں کتنی ہی بچیاں ظالموں کی ہوس کا نشانہ بنی ہیں۔ سرگودھا جیسے پرامن اور پرسکون شہر میں دن دیہاڑے منتہا چیز لینے دکان پر جاتی ہے تو واپس نہیں لوٹتی ہے۔ جب کسی کی بیٹی چند لمحے بھی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے اور ڈھونڈنے سے نہیں ملتی ہے تو جانے والدين کے دل میں کیا کیا وسوسے پیدا ہونے لگتے ہیں۔

منتہا بھی جب گھر نہیں لوٹی تو پریشانی پیدا ہونے لگی اور گھر والوں نے ارد گرد ہر طرف اسے ڈھونڈا۔ جب کہیں نہیں ملی تو پولیس کو رپورٹ کی اور محلے میں موجود سی سی ٹی وی کیمرہ میں دیکھا تو وہ بچی ایک دکان کے اندر داخل ہوئی تھی اور پھر کبھی واپس نہیں آئی۔ کیسے گھٹیا اور بیمار ذہنیت کے لوگ تھے کہ ایک معصوم بچی کو بھی نہیں بخشا اور وہ معصوم بچی جو روزانہ اس دکان پر جایا کرتی تھی اور اپنی معصوم اور شوخ باتوں سے اس دکان دار کو انکل یا بھائی کہتی ہوگی لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ ان انسانوں کے اندر شفقت کے رشتے نہیں بلکہ ہوس کے درندے بستے ہیں۔ ان درندوں کو یہ بھی خیال نہیں آیا کہ یہ معصوم ان کے اپنے ہی محلے کی بچی ہے اور ہو سکتا ہے کہ انھیں کی بیٹیوں یا بہنوں کی دوست بھی ہو اور ان کے ساتھ کھیلتی کودتی بھی ہو۔ ان بد بخت انسانوں نے اپنی بیٹیوں جیسی معصوم بچی کی بے حرمتی کی اور اس بے دردی سے قتل کیا جیسے کسی جنگل کے بھیڑیے نے چیر پھاڑ کیا ہو۔

ایسے ہی چند درندہ صفت لوگوں کی وجہ سے اب یہ بچیاں........

© Daily Urdu (Blogs)