menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naqsh e Suwaida

26 0
08.10.2026

میں ڈرائیو کرتے ہوئے روز اسے چاندنی اسکوائر کے پاس دیکھتی تھی۔ میں محتاط ڈرائیور ہوں اور ڈرائیونگ کے دوران دائیں بائیں دیکھنے سے حتی الوسع گریز بھی کرتی ہوں پر جانے کیا بات تھی کہ وہاں پہنچتے ہی میرے پیر کا دباؤ بریک پر بڑھ جاتا اور لاکھ کوشش کے باوجود اپنی گردن کو دائیں جانب گھومنے سے روک نہیں پاتی تھی۔ یہ کوئی ساعت بھر کا ہی معاملہ تھا پر تھا اور تسلسل کے ساتھ تھا۔ جانے وہ کب سے وہاں کا مقیمی مگر میں اسے پچھلے چھ ماہ سے نوٹس کر رہی تھی۔ اسکول سے واپسی پر اگر وہ مجھے اپنے مخصوص مقام پر نظر نہیں آتا تو میرے دل میں اس کے لیے ایک کھدبد سی لگ جاتی، پر کسی سے کیا کہتی؟

لوگ باگ دیوانی ہی سمجھتے۔

عورتوں کی بھی بڑی مجبوری ہے کہ ان کو طے کردہ ضابطہ اخلاق میں ہی قید رہنا پڑتا ہے۔

آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے

پھر سردیاں آ گئیں، کراچی میں کیا ہی سردی! مانگے تانگے کی کل مل ملا کر دو ہفتے کی سردیاں لیکن کھلے آسمان تلے وہ بھی برچھی بن کر لگتی ہے۔ اگلے دن اسکول سے واپسی پر میں نے صدر سے درمیانے درجے کا ایک لحاف خریدا۔ اس رات کھانے میں شلغم گوشت پکایا تھا، روٹی بیلتے ہوئے چار اضافی روٹیاں بھی سینک لیں اور ڈسپوزیبل برتن میں کھانا نکال لیا۔ صبح اسکول کے لیے قدرے جلدی نکل گئی اور میں چلتے چلتے ایک بوتل پانی رکھنا نہیں بھولی تھی۔

چاندنی اسکوائر پر گاڑی دائیں ہاتھ کو اندر کی طرف موڑتے ہوئے اس سے قدرے فاصلے پر گاڑی روک کر بمشکل تمام سامان اتارا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اس کے ارد گرد کتوں کا مجمع تھا۔ مجھے کتوں سے زیادہ ڈر تو نہیں لگتا پر سب کے سب آوارہ اور جنگلی کتے تھے اور پیٹ میں چودہ انجیکشن کے خیال سے ہی میری جان جاتی ہے۔ سست روی سے اللہ پیر کرتی ہوئی آگے بڑھی۔ اللہ تعالیٰ نے شاید ہم انسانوں سے زیادہ جانوروں کو مردم شناس بنایا ہے۔ کسی نے بھونکنا تو درکنار چوں بھی نہ کی بلکہ ایک آدھ تو دم بھی ہلانے لگے۔ جب میں نے سامان اس کے پیروں کے پاس رکھا تو اس نے چونک کر سر اٹھایا۔

اچھے لباس اور حلیے میں ہوتا تو خوش شکل گردانا جاتا پر الجھے بالوں، بے ترتیب داڑھی اور کیچڑ بھری آنکھوں نے اسے دیکھنے جوگا کب چھوڑا تھا۔ صحیح عمر کا اندازہ تو مشکل تھا پر چالیس بیالیس سے اوپر ہی ہوگا۔

میں سامان رکھ کر پلٹنے لگی تو کہنے لگا، کیوں بی بی یہ مایا جال کیوں چھوڑے جا رہی ہیں؟ میرے اور میرے خاندان کے لیے یہ گدڑی کافی ہے۔

میں تو ششدر رہ گئی۔ صاف اردو میں اس قدر بلیغ بات!

مجھ پر حیرت کا شدید غلبہ تھا پر میں فقط اتنا ہی کہہ سکی "رکھ لیجیے سردی بڑھ رہی ہے۔ "

اس شخص کے متعلق میرا تجسس اور زیادہ بڑھ گیا تھا۔

پھر کون ہے اور ان حالوں میں کیوں؟

میرا معمول تھا کہ مہینے میں ایک آدھ دفعہ رک کر اسے کچھ نہ کچھ ضرور دیتی۔ دو جوڑے بھی دیئے۔ اب وہ قدرے بہتر حالت میں نظر آتا تھا پر نہ کچھ منہ سے پھوٹتا نہ سر سے کھیلتا۔ میرے لیے یہ بھی غنیمت تھا کہ ناک بھوں چڑھائے بغیر سامان قبول کر لیتا ہے۔

البتہ........

© Daily Urdu (Blogs)