menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Lamha e Fikriya

26 0
22.10.2026

بدھ، 21 اکتوبر 2026 کی صبح بہاولپور کے ناردرن بائی پاس کے قریب پنجاب کے "کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD)" کے مبینہ مقابلے میں توقیر نذیر ہلاک ہوگیا۔

پولیس/CCD کا مؤقف: توقیر ملتان کے تھانہ ڈی ایچ اے کی حراست سے "چار روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران فرار" ہوگیا تھا۔ بہاولپور میں موٹر سائیکل سوار دو افراد کو روکنے پر انہوں نے فائرنگ کی اور توقیر "اپنے ہی ساتھی کی گولی سے مارا گیا۔ موقع سے فایدہ اُٹھاتے ہوئے ساتھی (مجرم امجد علی) فرار ہوگیا۔

عمدہ، بہت خوب گویا خس کم جہاں پاک۔ شاید توقیر نذیر کو بھی اسی طرح رگید کر مارنا چاہیے تھا جیسے اس مردود نے مظلوم وسیم عباس کو قتل کیا تھا۔

آپ کو نہیں لگتا کہ سی سی ڈی کو نئے اسکرپٹ رائٹر کی ضرورت ہے؟

وہی گھسی پٹی کہانی اور وہی سیکڑوں بار کا دہرایا ہؤا فرسودہ و بوسیدہ بیان

کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ CCD، جس کا قیام فروری 2025 میں پنجاب حکومت (وزیرِ اعلیٰ مریم نواز) نے پنجاب پولیس کے خصوصی شعبے کے طور پر قائم کیا تھا۔ اس کی قیادت ایڈیشنل آئی جی"سہیل ظفر چٹھہ" کے ہاتھوں میں ہے۔

عملی کارروائیاں "اپریل 2025" سے شروع ہوئیں۔ اس کا مقصد منظم جرائم اور سنگین وارداتوں یعنی ڈکیتی، قتل، اغوا، منشیات کے خلاف خصوصی کارروائی کرنا ہے۔

خود CCD کا دعویٰ ہے کہ یہ محکمہ آئین اور پولیس آرڈر 2002 کے تحت کام کرتا ہے۔ "گرفتاری پہلا مقصد اور طاقت آخری حربہ"۔

مگر کیا واقعی ہی ایسا ہے؟

آئیں، سی سی ڈی کے مقابلوں کے اعداد جو کہ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی مصدقہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ (17 فروری 2026) کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے، اس پر........

© Daily Urdu (Blogs)