menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Asal Bohran

17 0
09.05.2026

رات کے آخری پہر جب شہر کی سڑکیں خاموش ہو جاتی ہیں اور جب بازاروں کے شور اپنے ہی قدموں کی دھول میں دفن ہو جاتے ہیں۔ تب انسان اگر اپنے اندر جھانکے تو اسے ایک عجیب سچائی دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسی سچائی جو کتابوں میں نہیں لکھی جاتی، تقریروں میں نہیں سنائی دیتی اور نعروں میں کبھی زندہ نہیں رہتی۔ وہ سچ یہ ہے کہ قومیں نظاموں سے نہیں بلکہ نیتوں سے بنتی ہیں۔ عمارتیں نقشوں سے نہیں بلکہ ہاتھوں کی دیانت سے کھڑی ہوتی ہیں اور معاشرے قوانین سے نہیں بلکہ انسانوں کے کردار سے زندہ رہتے ہیں۔ ہم نے برسوں سے ایک لفظ کو اپنی ناکامیوں کا کفن بنا رکھا ہے۔ وہ لفظ ہے "سسٹم"۔

ہر ناکامی کا الزام اسی پر اور ہر بگاڑ کی ذمہ داری اسی کے سر تھوپ دیتے ہیں مگر کبھی کبھار یوں لگتا ہے جیسے ہم نے "نظام" کو ایک قبرستان بنا دیا ہے جہاں ہم اپنی تمام کوتاہیاں دفن کرکے مطمئن ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ نظام کبھی خود نہیں بگڑتا، اسے بگاڑنے والے ہاتھ ہمارے اپنے ہوتے ہیں۔ وہی ہاتھ جو دفتر میں رشوت لیتے ہیں، وہی ہاتھ جو ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، وہی ہاتھ جو سچ جانتے ہوئے بھی حرکت نہیں کرتے۔ یہ کہنا بہت آسان ہے کہ سیاستدان خراب ہیں، ملک اس لیے تباہ ہو رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ سیاستدان آسمان سے اترتے ہیں یا اسی معاشرے کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں؟

اگر ایک باپ گھر میں جھوٹ بولتا ہے، ایک استاد نقل کرواتا ہے، ایک تاجر دھوکہ دیتا ہے، ایک افسر........

© Daily Urdu (Blogs)