menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iran, Navishta e Deewar Aur Islahat Mein Takheer Ki Qeemat (2)

23 2
11.01.2026

اصلاحات کی بات کی جائے تو سب سے بنیادی اصلاح معاشی شفافیت ہے۔ IRGC اور دیگر طاقتور اداروں کے معاشی کردار کو محدود کرنا یا کم از کم اس پر پارلیمانی نگرانی قائم کرنا، عوامی غصے کو کم کرنے کی سمت ایک بڑا قدم ہو سکتا ہے۔ کرپشن، اقربا پروری اور بند معیشت وہ عوامل ھیں جو عوام کو یہ احساس دلاتے ھیں کہ قربانیاں صرف ان سے لی جا رھی ھیں جبکہ طاقتور طبقہ محفوظ ہے۔

سیاسی اصلاحات میں اظہارِ رائے کی محدود مگر حقیقی آزادی نہایت اھم ہے۔ اگر میڈیا، سوشل میڈیا اور صحافت کو مکمل دشمن سمجھنے کے بجائے ایک حفاظتی والو کے طور پر دیکھا جائے تو ریاست پر دباؤ کم ھو سکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مکمل جبر وقتی سکون تو دیتا ہے مگر طویل المدتی عدم استحکام کو بھی جنم دیتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر ھی کچھ عوامل بحران کو کم کر سکتے ھیں اگر ایران اور مغرب کے درمیان کسی حد تک پابندیوں میں نرمی، جوہری مذاکرات کی بحالی یا معاشی راھداریوں پر پیش رفت ھوتی ہے تو معیشت کو سانس مل سکتی ہے جس کا براہِ راست اثر عوامی غصے پر پڑے گا۔ تاہم بیرونی دباؤ، دھمکیاں یا کھلی مداخلت اکثر الٹا اثر ڈالتی ھیں اور ریاستی سختی کو مزید جواز فراھم کرتی ھیں۔

جو کہ بدستور کیا جا رھا ہے۔ جاوید رضا پہلوی کے ایرانی عوام سے خطابات سوشل میڈیا پر نشر کئے جا رھے ھیں۔ فیک نیوز کی بھی بھرمار ہے۔

ایک اھم مگر کم زیرِ بحث عنصر نفسیاتی تھکن بھی ہے۔ طویل احتجاج، گرفتاریوں اور جبر کے بعد بعض اوقات عوام وقتی طور پر پیچھے ہٹ جاتے ھیں لیکن اس کا مطلب مسئلے کا حل نہیں ھوتا۔ یہی دباؤ اگر اصلاحات میں تبدیل نہ ھو تو مستقبل میں زیادہ شدید شکل میں واپس آتا ہے۔

یہ کہنا درست ہوگا کہ ایران کا موجودہ بحران کسی ایک اقدام، کسی ایک فورس یا کسی ایک اصلاح سے ختم نہیں ھو سکتا۔ یہ ایک کثیرالجہتی بحران ہے جس کا حل بھی کثیرالجہتی ہونا چاھیے۔ طاقت کے استعمال سے احتجاج دبایا جا سکتا ہے مگر ختم نہیں۔ اصل حل معاشی انصاف، محدود سیاسی اصلاحات، سماجی احترام اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کی جزوی بحالی میں مضمر ہے۔ اگر ریاست یہ راستہ اختیار کرتی ہے تو بحران کی شدت کم ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر احتجاج ختم ہونے کے بجائے شکل بدلتا رھے گا اور ایران ایک طویل عدم استحکام کے دور میں داخل ھو سکتا ہے اور ھر بار ایسا ھی لگتا ہے کہ شاید ایران اس سیاسی، معاشی اور معاشرتی عدم استحکام سے شاید کبھی باھر نہ نکلے۔

IRGC جسے اردو میں سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کہا جاتا ہے۔ یہ ایران کا ایک نہایت طاقتور عسکری، سیکیورٹی اور نظریاتی ادارہ ہے جو عام فوج سے الگ ہے اور براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر کے ماتحت کام کرتا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد نئے قائم ہونے والے نظام کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک ایسی قوت میں تبدیل ہوگیا جو صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر بھی غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔

IRGC کا قیام انقلابِ ایران کے فوراً بعد عمل میں آیا کیونکہ انقلابی قیادت کو خدشہ تھا کہ شاہِ ایران کے دور کی فوج یا ریاستی ادارے کسی بھی وقت انقلاب کے خلاف بغاوت کر سکتے ھیں۔ چنانچہ ایک ایسی فورس بنائی گئی جو نظریاتی طور پر انقلاب کی وفادار ھو اور جس کی اولین ترجیح ریاست نہیں بلکہ اسلامی نظام اور ولایتِ فقیہ کا تحفظ ھو۔ یہی وجہ ہے کہ پاسداران کی وفاداری براہِ راست سپریم لیڈر سے منسلک ہے نہ کہ منتخب حکومت یا پارلیمنٹ سے۔

اس کے ساتھ بسیج ملیشیا بھی پاسداران انقلاب کا حصہ ہے جو بظاہر رضاکار فورس کہلاتی ہے مگر عملی طور پر احتجاجی مظاہروں کو کنٹرول کرنے، سڑکوں پر نگرانی رکھنے، جاسوسی اور حکومت مخالف سرگرمیوں کو دبانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ بسیج میں نوجوان، طلبہ اور عام شہری شامل ھوتے ھیں جنہیں نظریاتی تربیت دی جاتی ہے۔

ایران میں جب بھی بڑے عوامی احتجاج ھوتے ھیں، خواہ وہ مہنگائی کے خلاف ھوں یا سیاسی آزادیوں کے مطالبات پر مبنی، پاسداران انقلاب اور اس سے منسلک فورسز سب سے پہلے متحرک ھوتی ھیں۔ گرفتاریوں، کریک ڈاؤن، انٹرنیٹ بندش اور مظاہروں کو طاقت سے روکنے میں یہی ادارہ مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ایرانی عوام کے ایک بڑے طبقے میں پاسداران کو خوف، جبر اور ریاستی طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے جبکہ سرکاری بیانیے میں اسے انقلاب کا محافظ اور ملکی سلامتی کا ضامن قرار دیا جاتا ہے۔ ایران کے اندر یہ ادارہ نہایت مقدس اور طاقتور سمجھا جاتا ہے اور اس پر تنقید کو اکثر نظام دشمنی کے مترادف قرار........

© Daily Urdu (Blogs)