menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iran, Navishta e Deewar Aur Islahat Mein Takheer Ki Qeemat (1)

39 0
08.01.2026

ایران کی سڑکوں پر سنائی دینے والے نعروں میں حالیہ برسوں کے دوران جو تبدیلی آئی ہے وہ محض الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ اجتماعی شعور میں آنے والی ایک گہری دراڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ ماضی میں احتجاجی آوازیں زیادہ تر مہنگائی، بے روزگاری، سماجی و مذھبی پابندیوں اور بدانتظامی تک محدود رہتی تھیں مگر اب نعرے براہِ راست اقتدار کے نظریاتی مرکز کو مخاطب کر رہے ہیں۔ "مرگ بر خامنہ ای" اور "مرگ بر ولایتِ فقیہ" جیسے نعرے اس بات کا اظہار ہیں کہ عوامی غصہ اب صرف پالیسیوں یا افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ نظامِ حکمرانی کے بنیادی فلسفے پر سوال اٹھا رہا ہے۔

ولایتِ فقیہ ایران کے سیاسی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس نظریے کے تحت ریاستی اقتدار کی حتمی کنجی ایک ایسے منصب کے ہاتھ میں ہے جو عوامی ووٹ سے نہیں بلکہ مذہبی و ادارہ جاتی انتخاب کے ذریعے طے ھوتا ہے۔ اس نظام نے چار دہائیوں تک داخلی استحکام، خارجی مزاحمت اور نظریاتی وحدت کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا مگر وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی ساخت بدلتی چلی گئی۔ آبادی کا بڑا حصہ اب شہری، نوجوان، تعلیم یافتہ اور ڈیجیٹل دنیا سے جڑا ھوا ہے۔ ان کی ترجیحات، سوالات اور توقعات وہ نہیں رہیں جو انقلاب کے فوراً بعد کی نسلوں کی تھیں۔

حالیہ نعروں کی معنویت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ایران جیسے نظام میں رہبرِ اعلیٰ کے خلاف عوامی سطح پر براہِ راست نعرہ لگانا غیر معمولی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ محض خوف کی دیوار میں شگاف نہیں بلکہ اس تقدس کے گرد کھنچی لکیر کا مٹنا ہے جس پر ریاستی بیانیہ کھڑا تھا۔ جب کوئی معاشرہ اپنے طاقتور ترین ادارے اور نظریے کو کھلم کھلا میدان میں آ کر چیلنج کرنے لگے تو اس کا مطلب یہ نہیں ھوتا کہ تبدیلی فوراً آ جائے گی، یہ ضرور ھوتا ہے کہ ذہنی نقشہ بدل چکا ہے۔

یہاں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ایران شدید معاشی دباؤ میں ہے۔ بین الاقوامی پابندیاں، کرنسی کی گراوٹ، بے روزگاری اور طبقاتی تفاوت نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل ترین بنا دیا ہے مگر تاریخ بتاتی ہے کہ معاشی تکالیف تبھی نظامی بغاوت میں ڈھلتی ہیں جب انہیں اخلاقی یا نظریاتی ناانصافی کا رنگ مل جائے۔ خواتین کے حقوق، طرزِ زندگی پر قدغنیں، اظہارِ رائے کی پابندیاں اور ریاستی سختی، یہ سب عوامل مل کر اس غصے کو ایک بڑے سوال میں بدل دیتے ہیں کہ کیا موجودہ نظام عوام کی بدلتی ہوئی خواہشات و رجحانات کا جواب دے سکتا ہے؟

ریاستی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس نوعیت کے نعروں کو محض بیرونی سازش یا محدود گروہوں کی شرارت قرار دینا ایک مانوس حکمتِ عملی ہے۔ اس بیانیے میں وزن بھی ہے کیونکہ ایران واقعی ایک پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی ماحول میں گھرا ھوا ہے مگر ہر احتجاج کو صرف خارجی ہاتھ سے جوڑ دینا داخلی مکالمے کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ نظام اگر خود کو دیرپا سمجھتا ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ معاشرتی تبدیلیاں نعروں کے ذریعے خود کو ظاہر کرتی ھیں اور نعروں کو محض طاقت سے خاموش کر دینا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ایرانی معاشرہ یکساں نہیں۔ دیہی علاقوں، مختلف مذہبی طبقات اور ریاستی اداروں سے وابستہ حلقوں میں اب بھی نظام کے لیے حمایت موجود ہے، اسی لیے کسی فوری انقلابی نتیجے کی پیش گوئی قبل از وقت ہوگی۔ تاہم جو چیز واضح ہے وہ یہ کہ اصلاحات کی گنجائش پر عوامی اعتماد کمزور پڑ چکا ہے۔ جب احتجاج اصلاح سے انکار اور نظام کی تبدیلی کے سوال میں بدل جائے تو پھر ریاست اور معاشرہ دونوں ایک نازک موڑ پر آ کھڑے ھوتے ھیں۔

آنے والے دنوں میں ریاستی ردِعمل یقیناً سخت رھے گا اور وقتی طور پر احتجاج دب بھی سکتا ہے مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ دبایا گیا سوال ختم نہیں ہوتا وہ شکل بدل لیتا ہے۔ آج کے نعرے اگر سڑکوں پر کم بھی ہو جائیں یا دبا دئیے جائیں تو وہ مکالمے، تحریروں، فن، ذھنوں اور نجی گفتگوؤں میں زندہ رھتے ھیں۔ یہی وہ خاموش بہاؤ ہوتا ہے جو طویل مدت میں معاشروں کی سمت متعین کرتا ہے۔

ایران کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ احتجاج کیسے روکا جائے بلکہ یہ ہے کہ ریاست اور معاشرہ ایک نئے سماجی معاہدے پر کیسے پہنچیں؟ کیا اقتدار........

© Daily Urdu (Blogs)