menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Navi Par Gyarhvi Jamat Mein Dakhle

15 0
yesterday

نویں پر گیارھویں جماعت میں داخلے

کہا جاتا ہے کہ گیارھویں جماعت میں داخلے نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر دینے کا فیصلہ طلباء کا قیمتی وقت بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن ذرا اس فیصلے کی عقل و دانش، افادیت اور دوررس نتائج کا جائزہ تو لیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ بعض دفعہ کسی پالیسی یا فیصلے کی خامی سمجھنے کے لیے افلاطون ہونا ضروری نہیں ہوتا بلکہ تھوڑی سی کامن سینس اور چند منٹ کا استغراق ہی کافی ہوتا ہے۔

ایچ ای سی اور ایچ ای ڈی سمیت متعلقہ انتظامیہ کا خیال تازہ ہے کہ چونکہ دسویں جماعت کے امتحانات مارچ میں ہوتے ہیں اور نتائج اگست میں آتے ہیں۔ چنانچہ اپریل سے اگست تک پانچ ماہ انتظار کرنے کے بجائے نویں جماعت کے نتیجے پر اپریل میں داخلے کر دیے جائیں اور مئی کے دوسرے یا تیسرے ہفتے گیارھویں کی کلاسز شروع کر دی جائیں تاکہ طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

ہمیں دیوار میں سر مارنے کا کبھی شوق نہیں رہا۔ اس لیے اگر قارئین میں سے کسی کو یہ شوق ہو تو مہربانی فرما کر ایچ ای سی، ایچ ای ڈی، کالجز کے پرنسپلز اور ہمارے من موہنے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات صاحب سے پوچھ کر بتا دیں کہ مئی کے دوسرے ہفتے سے اگست کے پہلے ہفتے تک طلباء کے وقت کو بچت کے کھوہ کھاتے میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے

بچہ بچہ جانتا ہے کہ مئی کے آخری ہفتے میں گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو جاتی ہیں جو کم از کم چودہ اگست تک جاری رہتی ہیں۔ یوں گیارھویں جماعت کے طلباء مئی میں بمشکل ایک ہفتہ کالج جائیں گے اور پھر چودہ اگست کے بعد دوبارہ کلاسیں اٹینڈ کریں گے۔ گویا ایک ہفتے کی بچت کو پانچ ماہ کی بچت میں تبدیل کرنے کی کوشش والدین کی آنکھوں میں دن دہاڑے دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین پالیسی سازوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ بقول عدم:

رُسوا کرو عدم کو کسی اور ڈھنگ سے جھوٹی کہانیاں نہ بناو جناب من

سوال یہ ہے کہ اس ایک ہفتے کی بچت کے لیے پورے تعلیمی نظام کا معمول تبدیل کرنے کی ضرورت آخر کیوں پیش........

© Daily Urdu (Blogs)