Tail, Minerals Aur Maeeshat Ki Jang
تیل، منرلز اور معیشت کی جنگ
میں نے پچھلے کالم میں عرض کیا تھا کہ دنیا کی جنگیں اب صرف سرحدوں پر نہیں ہوتیں، یہ اب معیشت، توانائی اور وسائل کے میدان میں لڑی جاتی ہیں۔ آج میں آپ کو اس کہانی کا اگلا باب سنانا چاہتا ہوں، وہ باب جس میں گولیوں کی جگہ کانٹریکٹس اور ٹینکوں کی جگہ منرلز نے لے لی ہے۔
آپ ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیں۔ آپ کے گھر میں رکھی ہوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز، چاہے وہ موبائل چارجر ہو، بچوں کا کھلونا ہو، یا تسبیح اور جائے نماز، ان میں سے آدھی سے زیادہ چیزیں چین سے آئی ہوں گی اور اگر آپ ذرا عالمی سطح پر دیکھیں تو تصویر اور بھی دلچسپ ہو جاتی ہے۔ چین نے صرف بڑی صنعتوں پر قبضہ نہیں کیا، اس نے "چھوٹی چیزوں کی دنیا" بھی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔
عرب دنیا میں جائیں تو وہاں تسبیحات، جائے نماز، اسلامی آرٹ، حتیٰ کہ کعبہ کے ماڈلز تک بڑی تعداد میں چین میں بنتے ہیں۔ بھارت میں جائیں تو ہندو عبادات کے لیے استعمال ہونے والے بت، دیے اور دیگر مذہبی اشیاء بھی بڑی حد تک چین سے آتی ہیں۔ عیسائی دنیا میں چرچ کے لیے استعمال ہونے والی موم بتیاں، صلیبیں، سجاوٹی آئٹمز، یہ سب بھی بڑی مقدار میں چین کی فیکٹریوں سے نکلتے ہیں۔ یعنی چین نے صرف معیشت نہیں سمجھی، اس نے "انسانی ضروریات اور جذبات" کو سمجھ لیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج چین دنیا کی فیکٹری بن چکا ہے۔ چھوٹی سوئی سے لے کر بڑی گاڑی تک، موبائل فون سے لے کر سیٹلائٹ کے پرزوں تک، چین ہر چیز بنا رہا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ سستا بھی بنا رہا ہے اور بڑی مقدار میں بھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب چل کیسے رہا ہے؟ جواب پھر وہی ہے: توانائی اور منرلز۔
چین روزانہ تقریباً 14 سے 15 ملین بیرل تیل استعمال کرتا ہے۔ اس کی فیکٹریاں دن رات چلتی ہیں اور ان........
