Cuba, Inqilab Aur Pabandiyan
کیوبا، انقلاب اور پابندیاں
میں نے ایک بار ایک پرانی تصویر دیکھی تھی۔ تصویر میں ایک شخص فوجی یونیفارم پہنے، ہاتھ میں موٹا سا سگار تھامے، ہجوم کے درمیان کھڑا تھا۔ اس کی داڑھی بکھری ہوئی تھی، آنکھوں میں عجیب اعتماد تھا اور اس کے اردگرد ہزاروں لوگ ایسے کھڑے تھے جیسے وہ صرف ایک لیڈر نہیں بلکہ ایک خواب ہو۔ وہ شخص فیدل کاسترو تھا۔
دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی زندگی میں ہی "علامت" بن جاتے ہیں۔ فیدل کاسترو انہی لوگوں میں شامل تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور نوجوان بھی تھا، لمبے بال، سخت چہرہ، موٹر سائیکل پر پورا لاطینی امریکہ گھومنے والا ڈاکٹر، چی گویرا۔
یہ دونوں لوگ صرف حکومت گرانا نہیں چاہتے تھے، یہ دنیا بدلنے نکلے تھے۔ لیکن آج اگر آپ کیوبا کو دیکھیں تو وہاں لمبی قطاریں ہیں، بجلی کے بریک ڈاؤن ہیں، خالی بازار ہیں، ٹوٹتی عمارتیں ہیں اور لاکھوں لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیا صرف امریکی پابندیاں ذمہ دار ہیں؟ یا انقلاب کے خواب نے خود اپنے لوگوں کو تھکا دیا؟
کیوبا کی کہانی سمجھنے کے لیے ہمیں پیچھے جانا ہوگا۔ کیوبا کبھی اسپین کی کالونی تھا۔ پھر 1898ء میں ہسپانوی۔ امریکی جنگ کے بعد امریکہ نے وہاں اثر و رسوخ قائم کر لیا۔ رسمی طور پر کیوبا آزاد تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ معیشت، شوگر انڈسٹری، ہوٹل، کیسینو اور تجارت پر امریکی کمپنیوں کا بڑا کنٹرول تھا۔
1950ء کی دہائی میں کیوبا لاطینی امریکہ کا ایک "رنگین جزیرہ" سمجھا جاتا تھا۔ ہوانا میں امریکی سیاح آتے تھے، جوئے خانے چلتے تھے، نائٹ کلب روشن رہتے تھے، مافیا کے کردار سرگرم تھے اور امیر طبقہ عیش کرتا تھا۔ لیکن دوسری طرف دیہات میں غربت تھی، کسان بدحال تھے، زمین چند خاندانوں کے پاس تھی اور حکومت پر فوجی حکمران فلجینسیو باتیستا قابض تھا۔
یہی وہ ماحول تھا جہاں فیدل کاسترو ابھرا۔ 1953ء میں اس نے مونکاڈا بیرکس پر حملہ کیا۔ حملہ ناکام ہوا، لوگ مارے گئے اور فیدل گرفتار ہوگیا۔ عدالت میں اس نے........
