Toheed o Sifaat e Bari Taala (2)
توحید و صفات باری تعالیٰ (2)
صفات میں لاثانیت۔ خدائی کے اس کامل اور صحیح تصور کو مد نظر رکھتے ہوئے جب ہم کائنات پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے کہ عالم کی ساری موجودات میں سے ایک بھی ان صفات سے متصادم نہیں ہے وہی تمام صفات میں یکتا ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں محتاج ہیں محکوم ہیں۔ بنتی اور بگڑتیں ہیں مرتیں ہیں اور جیتیں ہیں کسی کو ایک حال پر قیام نہیں کسی کو ایک بالا تر قانون کے خلاف بال برابر حرکت کرنے کا اختیار نہیں۔ ان کے حالات خود گواہی دیتے ہیں کہ ان میں سے کوئی خدا نہیں ہے بلکہ کسی میں خدا کی ادنیٰ سی جھلک بھی نہیں پائی جا تی کسی کا خدائی میں ذرہ برابر دخل نہیں۔ یہی ہے لا الہٰ کے معنی۔ بالا تر ہستی۔
کائنات کی ساری چیزوں سے خدائی چھین لینے کے بعد ہمیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ایک اور ہستی ہے جو سب سے بالا تر ہے۔ صرف وہی تمام خدائی صفات رکھتی ہے اور اس کے سوا کوئی خدا نہیں یہی معنی ہیں الا اللہ کے۔ ایمان باللہ کی اہمیت۔ ایک قادر مطلق کی ذات کو اس کی شایان شان صفات کے ساتھ متصف ماننا عقیدہ توحید کہلاتا ہے۔ اسلام سے پہلے جو آسمانی مذاہب تھے خدا........
