menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zawal e Tehzeeb Aur Ilm

24 0
14.07.2026

دورِ حاضر میں مغربی سیاسی طاقت اور جدید علوم کے غلبے کی وجہ سے اسلامی تہذیب کا کوئی روایتی ادارہ باقی نہیں رہ سکا۔ برصغیر کے مسلم معاشرے کو استعماری غلبے اور زوال کا بیک وقت سامنا ہوا اور یہ ایسی صورت حال ہوتی ہے جس میں تہذیبیں ٹوٹ جاتی ہیں اور ان کی ازسرنو تعمیر کی چنوتی درپیش ہوتی ہے۔ زوالِ تہذیب، سیاسی و عسکری فتح و شکست سے زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ زوال ان افکار کے تاریخ سے غیرمتعلق ہو جانے سے پیدا ہوتا ہے جو اساسِ تہذیب کے طور پر فعال رہے ہوتے ہیں۔ زوال، تہذیب کا داخلی مسئلہ ہے اور اس تہذیب کے اندر کارفرما ذہن اور علم کی نزاری اور انہدام سے پیدا ہوتا ہے جبکہ فتح و شکست اجتماعی سیاسی ارادے سے متعلق ہوتی ہے۔

فتح و شکست وقتی ہوتی ہے اور ان میں ادلی بدلی تاریخ کا معمول ہے۔ زوال کا سامنا کرنے کے لیے جن وسائل کی ضرورت ہوتی ہے ان کی نوعیت ان وسائل سے قطعی مختلف ہوتی ہے جو شکست کو فتح میں بدلنے کے لیے درکار ہوتے ہیں اور جو بالعموم عملی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ زوال معاشرے اور تہذیب کے اساسی افکار کی فنا و بقا کا مسئلہ ہوتا ہے اور اس کا محل شعور اور علم کی جدلیات ہے، جبکہ فتح و شکست کا تعلق معاشرے اور تہذیب کے طبعی اور مادی پہلوؤں سے ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ اجتماعی آزادی اور غلامی میں ظاہر ہوتا ہے۔ سادہ لفظوں میں، زوال آئیڈیاز (ideas) اور ان کی جدلیات سے متعلق ہوتا ہے جبکہ فتح و شکست طاقت کی حرکیات میں ظاہر ہوتی ہے۔ برصغیر میں ہمارا بنیادی مسئلہ زوالِ تہذیب کا ہے اور فتح و شکست اس کے محض تاریخی مظاہر میں ایک ہے۔

ہمیں اس وقت زوال اور استعماری غلبے کا بیک وقت سامنا ہے اور دونوں کی شدت اس قدر ہے کہ معدودے مسلم اہلِ علم ہی ثقہ علمی سوالات اٹھانے کی سکت اور جرأت پیدا کر پائے ہیں اور ان کی آواز بھی اب ٹکنالوجیائی نقارخانے میں گم ہوگئی ہے۔ زوالِ تہذیب داخلی مسئلہ ہے جبکہ استعماری غلبہ مسلم معاشروں کے خارج سے امڈتی تاریخ نے ہم پر مسلط کیا ہے۔ فتح و شکست ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اپنی ظاہری نوعیت میں حسی اور طبعی ہے اور واقعاتی اور عملی ہے۔ ہمارے اہلِ علم زوالِ تہذیب کا فکری اور علمی سطح پر کبھی سامنا نہیں کر پائے اور وہ اسے محض ایک سیاسی مسئلہ باور کرتے چلے آئے ہیں۔ اس لیے ہمارے اہلِ علم اور اہل سیاست نے اس کا سامنا کرنے کے لیے گزشتہ دو سو سال میں کئی تحریکوں کا آغاز کیا جس میں سے صرف ایک یعنی تحریک پاکستان ہی کامیاب ہو سکی اور مسلمانوں کے لیے طاقت کا حصول ممکن بنا سکی۔ لیکن اس میں قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ حصول طاقت کے باوجود زوالِ تہذیب تھما نہیں بلکہ تیز تر ہوتا چلا گیا۔

تحریک........

© Daily Urdu (Blogs)