Tv Se Mobile Tak, Badalte Waqt Ki Kahani
ٹی وی سے موبائل تک، بدلتے وقت کی کہانی
کہانی اور معلومات حاصل کرنے کی صدیوں پرانی انسانی خواہش کا سفر جاری ہے۔ انسانی تہذیب کی ابتدا ہی سے کہانی انسان کی رفیق رہی ہے۔ غاروں کی دیواروں پر بنے نقش ونگار سے لے کر آج کے ڈراموں، فلموں، ناولوں اور سوشل میڈیا تک کی مختصر ویڈیوز تک انسان نے ہر دور میں کہانی سننے، سنانے اور اس میں خود کو تلاش کرنے کی خواہش برقرار رکھی ہے۔ کہانی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے معمول کی دنیا سے نکال کر ایک دوسری دنیا میں لے جاتی ہے جہاں وہ کبھی اس میں اپنے ماضی کی جھلک دیکھتا ہے تو کبھی مستقبل کے خواب دیکھتا ہے اور کبھی کسی دوسرئے کی زندگی میں جھانکنے کا موقع ملتا ہے۔ شاید اسی لیے بچے بھی کہانی سنتے ہوئے محو ہو جاتے ہین اور بوڑھے بھی اپنی گزری ہوئی زندگی کی کہانیوں میں سکون تلاش کرتے ہیں۔ وقت گزرتا گیا تہذیبیں بدلتی رہیں، زبانیں بدلیں مگر انسان کی کہانی سننے اور سنانے کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوئی۔
دراصل انسان ایک جانب تو اپنی ذات کا عکس کہانی میں دیکھنا چاہتا ہے تو دوسری جانب دوسروں کے قصے میں اپنے دکھوں، پریشانیوں، محرومیوں اور خوشیوں کو تلاش کرکے خود سے موازنہ کرنا چاہتا ہے اور تیسری اور اہم وجہ یہ ہے کہ انسان کے مزید جاننے اور نئی سےنئی معلومات اور خبروں تک رسائی کی خواہش اسے چین نہیں لینے دیتی۔ کہانی کے اس طویل سفر کا آغاز بزرگوں کی زبانی نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا پھر داستان تک پہنچا اور داستان گوئی ایک فن بن گئی۔ پھر کتاب نے کہانی کو ایک نیا روپ دیا، ناول، افسانہ سے ہوتا ہوا اخبار، رسائل اور میگزین کا کردار بڑھتا چلا گیا۔
ایک زمانہ تھا جب معاشرئے میں........
