Depression, Berozgari Aur Hijrat (2)
ڈپریشن، بےروزگاری اور ہجرت (2)
پاکستان آج ایک ایسے خاموش بحران سے گزر رہا ہے جو ہر گھر کی دیواروں میں داخل ہو چکا ہے، مگر جس کا نام لینے سے لوگ ابھی بھی کتراتے ہیں۔ یہ بحران کوئی سیاسی نعرہ نہیں، کوئی معاشی اعداد و شمار نہیں۔ یہ انسانوں کے اندر کا ٹوٹنا ہے۔ ہم روز اخبارات میں مہنگائی کے اعداد پڑھتے ہیں، ڈالر کی قیمت دیکھتے ہیں، بجٹ کے خسارے پر بحث کرتے ہیں، مگر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ان اعداد و شمار کے پیچھے کتنے لوگ ہیں جو راتوں کو جاگتے ہیں۔ کتنے باپ ہیں جو اپنے بیٹے کی نوکری کے خوف میں سو نہیں سکتے۔ کتنی مائیں ہیں جو اپنی بیٹی کے مستقبل کے بارے میں سوچ سوچ کر گھلتی ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی تقریباً اڑتیس فیصد آبادی کسی نہ کسی نفسیاتی یا ذہنی مسئلے سے دوچار ہے، جبکہ پچیس فیصد افراد شدید ڈپریشن کا شکار بتائے جاتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ تقریباً چوبیس ملین پاکستانیوں کو کسی نہ کسی قسم کی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، یہ وہ خاموش کمرے ہیں جہاں لوگ اپنے اندر کی آوازوں سے لڑتے ہیں اور ہار جاتے ہیں۔
اور یہ سب ایک خلا میں نہیں ہو رہا۔ اس کے پیچھے ایک واضح معاشی پس منظر ہے، ایک ایسا نظام ہے جو اپنے ہی نوجوانوں کو باہر کا راستہ دکھا رہا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً گیارہ فیصد ہے، مگر یہ ایک ایسا عدد ہے جو پوری حقیقت نہیں بتاتا۔ گریجویٹس میں یہ شرح اس سے کہیں بلکہ زیادہ ہے اور بعض جائزوں کے مطابق پندرہ فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ حقیقت اس سے بھی تلخ ہے: ہر سال پانچ لاکھ سے زائد نوجوان ڈگری لے کر لیبر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں، مگر یہ مارکیٹ دو لاکھ سے بھی کم باقاعدہ نوکریاں پیدا کرتی ہے۔ یعنی ہر سال لاکھوں نوجوانوں کو خاموشی سے یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کی جگہ یہاں نہیں ہے اور جو خوش نصیب نوکری پا بھی لیتے ہیں، ان کی تنخواہ اکثر پچیس سے پینتیس ہزار روپے کے درمیان ہوتی ہے، وہ رقم جس میں ایک خاندان کا گزر نہیں ہوتا، مگر نوجوان کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہی بہت ہے۔ یہ معاشی دباؤ صرف جیب پر نہیں پڑتا، یہ دل پر پڑتا ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو اپنے والدین کی امیدوں کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے، جو ہر ماہ کے آخر میں خود کو ناکام سمجھتا ہے، جو اپنے ہم جماعتوں کو ترقی کرتے دیکھ کر اندر........
