menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Good Morning Ji, Shab Bakhair: Aik Sada Sa Paigham, Aik Pecheeda Sa Masla

42 0
08.10.2026

"گڈ مارننگ جی"، "شب بخیر": ایک سادہ سا پیغام، ایک پیچیدہ سا مسئلہ

صبح کے سات بجے ہیں۔ آنکھ ابھی کھلی ہی ہے، چائے کی کیتلی چڑھائی ہی ہے کہ فون چمکا۔

نام دیکھا۔ وہ صاحب جن سے پچھلے مہینے ایک کانفرنس میں ملی تھی۔ یا وہ جنہوں نے کسی پروفیشنل گروپ سے نمبر لیا۔ یا وہ "سینئر" جو آپ کے کام کے "بہت بڑے حامی" ہیں معترف ہیں۔ جو ہر تقریب میں آپ کو متعارف کراتے ہیں، ریفرنسز دیتے ہیں اور جن سے تعلق بگاڑنا ذرا سوچیں کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ نو فری لنچ ان کے لیے ہی تو ایجاد ہوا تھا۔ آپ نے فون رکھ دیا۔ چائے پی لی مگر وہ پیغام وہاں پڑا رہا۔ ایک کانٹے کی طرح۔

اسی منظر نامے کو اب رات کے دس یا گیارہ بجے میں تبدیل کر لیں اور سوچیں۔ بات کس کی ہو رہی ہے؟

دفتر میں کام کرنے والی عورت کے لیے اب کچھ قوانین ہیں ناقص سہی، کاغذی سہی، مگر ہیں۔ ہراسانی کا کوئی طریقہ کار ہے۔ کوئی HR ہے جسے کم از کم دکھاوے کی فکر ہو۔ مگر وہ عورت جو فری لانس کنسلٹنٹ ہے، ایکٹوسٹ ہے، این جی او سرکل میں کام کرتی ہے، سوشل ڈویلپمنٹ سیکٹر میں ہے اس کا کوئی HR نہیں۔ اس کا کلائنٹ بھی وہی ہے، رابطہ بھی وہی ہے، ریفرنس بھی وہی ہے اور گڈ مارننگ بھیجنے والا اور شب بخیر کا دعا گو بھی وہی ہے۔ اگر وہ عورت "سنگل" ہے اور اگر "طلاق شدہ" ہے تو بات کا رخ ہی کچھ اور ہے۔ بیواؤں کو ایک اور طرح کی سپورٹ حاصل ہے جو اچھی نہ بھی لگے مگر سٹیگما نہیں لگتا۔

یہ پیغام آفس سے نہیں آتا اکثر۔ آتا ہے: کسی سیمینار کے وہاٹس ایپ گروپ سے نمبر لے کر۔ کسی مشترکہ کاز کی آڑ میں۔ کسی ایسے شخص سے جو آپ کے کام کا "حامی" ہے اور یہ بات آپ کو بھولنے نہیں دیتا۔

یہ ہوتا کیا ہے دراصل؟

بات گڈ مارننگ کی نہیں ہے۔ وہ لفظ تو معصوم ہے۔ بات یہ ہے کہ کس نے طے........

© Daily Urdu (Blogs)