menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gluboi Jheel Kinare

21 0
10.06.2026

دن کے اجالے میں گلوبوئی زلیف کا سحر انگیز ماحول ہماری آنکھوں کے سامنے آہستگی سے آشکار ہونے والے خواب کی طرح محسوس ہوا، ہر نظر، ہر موڑ نے ایک پرسکون جادو کا انکشاف کیا، بلند و بالا عمارتوں کی اوٹ سے جھیل کا چمکتا ہوا پانی چاندی کے دھاگوں کی مانند جھانک رہا تھا، جیسے جیسے سورج بلند ہوتا گیا، اسی طرح اس مقام کی نبض بھی تیز ہوتی گئی، زندگی کی نرم گونج کے ساتھ ایک ایسی تال جو جھیل کے دل کی دھڑکنوں سے گونجتی تھی، ٹریفک نشانات سے رہنمائی لیتے ہم جھیل والے راستے پر چل پڑے، جھیل، ہاسٹل کے اس قدر قریب تھی کہ اسے دریافت ہونے کا انتظار تھا، درختوں کے ایک جھنڈ نے ہمارا استقبال کیا، شاخیں ہوا سے ہل رہی تھیں، وسیع پارکنگ میں مناسب جگہ کا انتخاب کیا، جیسے ہی ہم گاڑی سے باہر نکلے، ٹھنڈی ہوا نے ہماری جلد کو چوما، جھیل کی ہلکی خوشبو اور پتوں کی سرسراہٹ کے ساتھ گھل مل گئی۔

جس لمحے ہم جھیل کی طرف بڑھے، ایک امید کی ہوا نے ہمیں گھیر لیا، پہلے تو میں نے سوچا کہ یہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں پائی جانے والی کسی بھی جھیل کی طرح ہوگی، اردگرد بلند و بالا پہاڑیاں، پرسکون، خوبصورت، پھر بھی مانوس، تاہم، جو کچھ ہماری آنکھوں نے دیکھا وہ ایک دم توڑ دینے والی حیرت تھی، ایک یاد جو زندگی بھر ہمارے دلوں میں نقش رہی۔

جھیل پر پہلی نظر پڑتے ہمارے پاؤں جم گئے، یہ صرف ایک جھیل نہیں تھی، بلکہ جنت کا ایک ٹکڑا نازک طریقے سے زمین پر رکھا گیا تھا، دن کی روشنی میں نہا کر جھیل اپنی پوری شان و شوکت ظاہر کر رہی تھی، پانی کا وسیع پھیلاؤ مائع ہیروں کے بستر کی طرح چمک رہا تھا، اوپر صاف نیلا آسمان، ہلکی ہلکی لہریں سطح آب پر رقص کرتی سرک رہی تھیں، جب پانی کے اسکوٹر اور چھوٹی کشتیاں گزرتیں تو اس پرسکون منظر میں زندگی اور حرکت یکجا ہو جاتی تھی۔

جھیل کے پرے شاندار اونچے پہاڑ کھڑے تھے، ان کی خاموش شان و شوکت پرفتن منظر کو مزید گہرائی میں ڈال رہی تھی، ہم واضح طور پر پانچ چشموں کو پہاڑوں سے نیچے گرتے دیکھ سکتے تھے، جن کا کرسٹل........

© Daily Urdu (Blogs)