Sindh Mein Kam Az Kam Tankhwa Muqarar
سندھ میں کم از کم تنخواہ مقرر
پاکستان اس وقت مشکل ترین اقتصادی دورسے گزر رہا ہے جہاں عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا ایک کڑا امتحان ہے۔ ایسے معاشی حالات اور کمر توڑ مہنگائی کے طوفان مدنظر رکھتے ہوئے معاشی فیصلے کرتی ہیں تاکہ عوام اس سے مستفید ہوں۔ دراصل ماہرین معیشت کے مطابق افراط زر (Inflation) معاشیات کی ایک اہم اصطلاح ہے جس کے مطابق کسی معیشت میں موجود اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی شرح کو افراط زر کہتے ہیں دراصل افراط زر میں مسلسل اضافہ کی رجحان مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے تاہم ہر معیشت میں کم و بیش افراط زر کی موجودگی قدرتی امر ہے اور یہ اوسطً 11 سے 12 فیصد سالانہ رہتا ہے تاہم ترقی پذیر معیشت میں یہ ڈبل فیگر سے بھی اوپر چلاجاتا ہے۔
اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن بنیادی وجہ حکومت کے اخراجات جب زیادہ ہوجاتے ہیں اور آمدن کم ہوتی ہے تو بجٹ خسارہ بڑھ جاتا ہے جسے پورا کرنے کے لیے قرض لیا جاتا ہے یا زیادہ پیسہ چھاپا جاتا ہے جس سے افراط زر بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان ضروری اشیاء جیسے تیل اور خوراک کی درآمد کرتا ہے اگر عالمی مارکیٹ میں ان اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں تو پاکستان میں بھی ان کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں جس سے افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے۔
اخباری رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان کا انفلیشن ریٹ 12فیصد بتائی جارہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں ہوشربا مہنگائی ہے اسی مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے پچھلے دنوں سندھ حکومت نے حالیہ بجٹ برائے مالیاتی سال-27 2026 میں مزدوروں کی کم از کم اجرت میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ ایک نوٹیفیکیشن جاری ہوا جس کے مطابق صوبہ سندھ میں کم از کم تنخواہ 43 ہزار ہوگی جس کے بعد عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اگرچہ 43 ہزار کی تنخواہ ریت کی اس چھوٹی سے دیوار کی طرح ہے جولہروں کےایک ہی تھپیڑوں سے ریزہ ریزہ ہوسکتی ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ 43 ہزار تنخواہ کوئی عیاشی نہیں بلکہ اس طوفان میں ڈوپتے ہوئے محنت کش کے لیے تنکے کا وہ سہارا ہے جو اسے سانس لینے کی مہلت دیتا ہےکیونکہ کسی بھی کارخانے یا انڈسٹری میں محنت کش کی حیثیت وہی ہے جو انسائی جسم میں دل کی یا کسی مشین میں ایندھن کی ہوتی ہے جس طرح ایندھن کے بغیر کوئی انجن ایک انچ اگے نہیں بڑھ سکتا بالکل اسی طرح ہنر مندوں کے بغیر ترقی کا کوئی پہیہ نہیں گھوم سکتا۔ حکومت سندھ کی جانب سے مقرر کردہ یہ کم از کم اجرت دراصل اس ایندھن کو برقرار رکھنے کی ایک قانونی کوشش ہے۔
اب صوبہ سندھ میں کوئی سا بھی شعبہ ہو چاہے وہ آفیسوں میں کام کرنے والے نائب قاصد ہوں یا سندھ میں صنعتوں میں کام کرنے والے محنت کشوں سب کی اجرت میں اضافہ کردیا گیا ہے یقیناََ یہ سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ ہے جس کے مطابق صنعتوں میں اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کی اجرت میں نیم ہنر مند اور اعلیٰ ہنر مندوں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ جس کے تحت نیم ہنر مند کی ماہانہ تنخواہ 44,484 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، عموماََ ہنر مند کی ماہانہ تنخواہ 53ہزار تک ہوتی ہے اور اعلیٰ ہنر مند کی ماہانہ تنخواہ 56 ہزار تک ہوتی ہے جس کا بھی نوٹیفیکیشن آنا باقی ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے دور میں یعنی موجودہ دور حکومت سے پہلے والے دور میں جب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبہ سندھ میں کم از کم اجرت 25ہزار کی تھی تو دوسرے صوبوں کی حکومتوں نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن بعد میں انہوں نے بھی صوبہ سندھ........
