Makkah Difai Muahida: Shayad Asal Faida Pakistan Ke Hisse Mein Aaye
مکہ دفاعی معاہدہ: شاید اصل فائدہ پاکستان کے حصے میں آئے
عزیز قارئین اور میرے دوستو، پچھلے چند دنوں سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں ہمیں بہت کچھ پڑھنے اور سننے کو مل رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم سب کی اپنی اپنی آراء اور قیاس آرائیاں ہیں۔ آپ کی اجازت سے میں بھی اپنی ایک مخلصانہ رائے پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ اسے کسی حتمی سیاسی تجزیے کے بجائے ایک سنجیدہ غور و فکر سمجھا جائے۔
میری نظر میں اس معاہدے کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف جارحانہ اتحاد کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس، اس کا بنیادی تصور اجتماعی دفاع اور باہمی تحفظ ہے۔ یعنی اگر ایک پر حملہ ہو تو باقی دونوں اسے اپنے خلاف حملہ سمجھیں گے۔
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے: آخر اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
میری سمجھ میں اس کا جواب ایک لفظ میں ہے: Deterrence، یعنی باز رکھنے کی قوت۔
یہاں مجھے مرحوم ڈاکٹر Henry Kissinger کی strategic thinking یاد آتی ہے۔ طاقت کے توازن اور deterrence کے بارے میں ان کی بنیادی سوچ کا ایک اہم پہلو یہی تھا کہ کسی ممکنہ جارحیت کو روکنے کا مؤثر ترین طریقہ صرف جنگ کی تیاری نہیں بلکہ ایک ایسی credible deterrent capability پیدا کرنا ہے جس سے کوئی بھی مخالف پہلے ہی یہ حساب لگانے پر مجبور ہو جائے کہ کسی جارحیت کے اقدام کی قیمت اس کے ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
یعنی مقصد یہ نہیں کہ تینوں ملک مل کر کسی سے جنگ کرنے نکلیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی ممکنہ مخالف پہلے ہی یہ سوچ لے کہ: "ایک کو چھیڑنے کا مطلب تینوں کو میدان میں لانا ہو سکتا ہے"۔
شاید اسی لیے مجھے یہ معاہدہ کسی حد تک "tusks والے peace accord" یعنی دانتوں والے امن معاہدے جیسا محسوس ہوتا ہے۔ دانت دکھانے کا مقصد لازماً کاٹنا نہیں ہوتا، کبھی کبھی، بلکہ اکثر ان کا اصل کام دوسروں کو کاٹنے سے باز رکھنا ہوتا ہے۔
تین ملک، تین الگ طاقتیں
اگر ہم ذرا غیر جذباتی ہو کر دیکھیں تو ان تینوں ملکوں کی طاقتیں ایک دوسرے کی کمی پوری کرتی نظر آتی ہیں۔
پاکستان کے پاس ایک بڑی، جنگ کا تجربہ رکھنے والی اور نسبتاً مضبوط فوجی قوت ہے۔ ہمارے پاس میزائل ٹیکنالوجی، فضائی اور دفاعی صلاحیتیں، ایرو اسپیس اور دیگر دفاعی شعبوں کا ایک پرانا صنعتی ڈھانچہ اور سب سے بڑھ کر ایک بڑی تعداد میں تربیت یافتہ فوجی اور تکنیکی افرادی قوت موجود ہے۔
ترکی دوسری نوعیت کی طاقت لے کر آتا ہے۔ اس نے گزشتہ برسوں میں اپنے دفاعی........
