Molana Ki Kirdar Kushi, Siasi Shikast Ka Eteraf?
مولانا کی کردار کشی، سیاسی شکست کا اعتراف؟
مولانا فضل الرحمٰن نے کئی دہائیوں کے نشیب و فراز اپنی آنکھوں سے دیکھے، اقتدار کے ایوانوں کو بنتے اور بگڑتے دیکھا، مگر خود اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھا۔ ان کے سیاسی مؤقف سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور ان کی حکمت عملی پر بھی سوال اٹھائے جاسکتے ہیں، لیکن مولانا کے چند بیانات کو بنیاد بنا کر حکومتی حلقوں سے لے کر سیاسی جماعتوں، صحافتی حلقوں اور سوشل میڈیا تک جس مہم کا آغاز کیا گیا ہے، اس میں اختلافِ رائے سے زیادہ کردار کشی، الزام تراشی اور سیاسی انتقام کا رنگ نمایاں ہے۔ بعض حلقوں نے مولانا کے مؤقف کا جواب دینے کے بجائے ان کی پوری سیاسی زندگی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
کہیں ان کے بیانات کو سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کیا جارہا ہے، کہیں ان کی نیت پر حملے ہورہے ہیں اور کہیں برسوں پرانے الزامات کو نئے انداز میں اچھال کر ان کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شاید اب طے پایا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اختلاف کا جواب دلیل سے نہیں بلکہ تضحیک، تہمت اور کردار کشی سے دیا جائے گا۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران جامعۃ الرشید کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کے بعض بیانات اور جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان کے رویے پر ہمیشہ دکھ ہوا۔ اس سے پہلے بھی مولانا کی مختلف پالیسیوں، سیاسی حکمت عملیوں اور بعض فیصلوں پر تنقید کرتا رہا ہوں، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان کی کردار کشی کی حمایت کی جائے یا ان کے خلاف جاری تضحیک آمیز مہم پر خاموشی اختیار کی جائے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا قصور شاید یہ ہے کہ وہ ہر طاقتور قوت کے سامنے اپنی سیاسی رائے اور مؤقف سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ وہ سیاسی حالات کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں، اپنی جماعت اور کارکنوں کے ساتھ سیاسی میدان میں موجود ہیں اور انہیں سیاسی منظرنامے سے مٹایا نہیں........
