محترمہ فاطمہ جناح ؒسے ملاقات (2)
مجھے یوں محسوس ہونے لگا تھا جیسے میری باتوں سے ملکی حالات کی ابتر سیاسی صورتحال نے ان کے دِل کے زخموں کو گویا چھیڑ دیا ہے۔ مادرِ ملت بولے جا رہی تھیں۔ ایوب خان جانتا ہے کہ پنجاب کے لوگوں نے قائداعظم کے ساتھ جمہوریت کے لئے کام کیا ہے اور لوگ اس راہ کو کبھی نہیں چھوڑ سکتے مگر خالد! میں تمہارے ذریعے قوم کو بتانا چاہتی ہوں کہ اس”ڈرل ماسٹر“ کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی،اسی لئے اس ڈرل ماسٹر(ایوب خان) نے پورے پنجاب کو پولیس کے پنجے میں دے دیا ہے۔اس موقعہ پر عمر رسیدہ عزم و ہمت کی پیکر خاتون نے اپنا دایاں ہاتھ اوپر اُٹھا کر فضا میں بلند اور مٹھی بند کر کے کہا:”بابا، بولنے والوں کو اس طرح ڈرانا بزدلوں کا کام ہوتا ہے،مگر بالآخر بابا کب تک لوگ ڈرتے رہیں گے“۔
میں ہمہ تن گوش مادرِ ملت کی ہر بات کو اپنے پنہاں خانہئ دماغ کے گوشوں میں محفوظ کر رہا تھا، اچانک لمحہ بھر کے لئے رُک گئیں پھر گویا ہوئیں،بابا، یہ آمروں کا ایک بڑا مرغوب کام ہوتا ہے کہ قوم کو کھانے کھلانے کی........
