ایران: نئی قیادت
ایران میں سپریم لیڈر کی تبدیلی سے متعلق خبروں نے خطے کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے قائم کمیٹی نے ان کے نام کی منظوری دے دی ہے اور باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔
دوسری طرف ایرانی سرکاری ذرائع کا مؤقف مختلف ہے۔ ان کے مطابق نئے سپریم لیڈر کی نامزدگی کے لیے اجلاس جاری ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اس عمل میں تقریباً ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ حتمی اعلان آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد کیا جائے گا۔
یہ صورتحال صرف ایک خبر نہیں بلکہ ایران کے سیاسی ڈھانچے، مذہبی قیادت اور علاقائی توازنِ طاقت سے جڑا اہم معاملہ ہے۔
ایران میں سپریم لیڈر کو "رہبرِ اعلیٰ" کہا جاتا ہے۔ یہ ملک کا سب سے طاقتور عہدہ ہے۔ ایران کا سیاسی نظام 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد تشکیل پایا۔ اس انقلاب کی قیادت روح اللہ خمینی نے کی۔ انقلاب کے بعد ایران میں "ولایتِ فقیہ" کا نظام قائم ہوا۔ولایتِ فقیہ فقہی نظریہ ہے۔ اس کے مطابق اسلامی معاشرے کی قیادت ایک اعلیٰ درجے کے فقیہ یعنی مذہبی عالم کے پاس ہونی چاہیے۔ وہ ریاستی امور کی نگرانی کرے گا۔
سپریم لیڈر کے اختیارات وسیع ہیں۔ وہ فوج کے سربراہ ہیں۔ عدلیہ کے سربراہ کا تقرر کرتے ہیں۔ سرکاری میڈیا پر اثر........
