موسمیاتی تبدیلی: اب تاخیر کی گنجائش نہیں
موسمیاتی تبدیلی: اب تاخیر کی گنجائش نہیں
وفاقی وزراء نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں قدرتی آفات، بالخصوص سیلاب، گلیشیئرز کے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کی استعدادِ کار میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے دورے کے موقع پر وزراء نے کہا کہگزشتہ سال شدید سیلاب کے باوجود بروقت ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کی بدولت انسانی جانوں کا نقصان نسبتاً کم رہا، جو ادارہ جاتی تیاری، پیشگی انتباہی نظام اور مختلف محکموں کے باہمی تعاون کا نتیجہ ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیاکہ وزیراعظم کی ہدایات پر گلیشیئرز کی نگرانی، ابتدائی وارننگ سسٹم، نئے آبی ذخائر، ڈیموں کی تعمیر، زرعی تحقیق اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ فصلوں کی تیاری جیسے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ یہ بیانات یقیناً حوصلہ افزا ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس مزید انتظار کی گنجائش موجود ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ نہایت معمولی ہے۔ ایک طرف شمالی علاقوں میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، دوسری طرف غیر متوقع بارشیں، شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی اور اچانک آنے والے........
