menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

جنگ کے سائے میں امن کی تازہ کوششیں

21 0
15.04.2026

جنگ کے سائے میں امن کی تازہ کوششیں

عالمی سیاست کے افق پر اس وقت ایک نازک مگر فیصلہ کن مرحلہ درپیش ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان نے جہاں خطے میں کشیدگی کو بڑھایا، وہیں عالمی برادری میں بے چینی کی ایک لہر بھی دوڑا دی۔ تاہم یہ امر اطمینان بخش ہے کہ اس اعلان کو نہ صرف وسیع پیمانے پر ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کئی اہم ممالک نے فوری طور پر امن کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ کشیدگی کے باوجود سفارت کاری کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے۔ اس ممکنہ مذاکراتی عمل کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اب دونوں ممالک ایک دوسرے کے مؤقف، خدشات اور ترجیحات سے کسی حد تک آگاہ ہو چکے ہیں۔ ابتدائی تعارفی مرحلہ گزر چکا ہے اور اب بات چیت زیادہ حقیقت پسندانہ اور نتیجہ خیز ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماضی کے برعکس اس بار دونوں فریق اس حقیقت کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں کہ سخت گیر موقف پر اصرار نہ صرف مذاکرات کو ناکام بنا سکتا ہے بلکہ اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈی، سمندری تجارت اور خطے کے امن و استحکام کا براہ راست تعلق آبنائے ہرمز سے ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا سکتی ہے۔تازہ امن کوششوں میں متعدد ممالک کا کردار نمایاں طور پر سامنے آ رہا ہے۔ خلیجی ریاستیں، یورپی یونین، چین اور روس جیسے اہم عالمی کھلاڑی اس تنازعے کے پرامن حل کے لیے متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ خلیجی ممالک، جو براہ راست اس کشیدگی سے متاثر ہو سکتے ہیں، پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے دونوں فریقین کو قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یورپی ممالک، جو ماضی میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے ضامن رہے ہیں، ایک بار پھر اسی نوعیت کی مفاہمت کی بحالی کے خواہاں ہیں۔ چین اور روس، اپنی اقتصادی اور تزویراتی دلچسپیوں کے پیش نظر، خطے میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ ان تمام کوششوں کے درمیان پاکستان کا کردار نہایت اہم اور قابلِ تحسین قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر نہ صرف غیر جانبدارانہ موقف اختیار کیا بلکہ عملی طور پر ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان نے ایک فریم ورک تیار کر کے دونوں ممالک تک پہنچایا ہے، جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور مذاکرات کے تسلسل کو یقینی بنانے جیسے نکات شامل ہیں۔ یہ اقدام پاکستان کی سنجیدہ سفارتی بصیرت اور خطے کے امن کے لیے اس کی وابستگی کا مظہر ہے۔پاکستان کی یہ کوششیں اس لیے بھی اہم ہیں کہ وہ ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات براہ راست محسوس کیے جاتے ہیں۔ معاشی دباؤ، توانائی کے بحران اور سلامتی کے خدشات جیسے مسائل پاکستان کے لیے پہلے ہی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان سمیت پورے جنوبی ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کا امن کے لیے سرگرم ہونا نہ صرف ایک سفارتی ضرورت ہے بلکہ ایک قومی تقاضا بھی ہے۔ ان امن کوششوں کی کامیابی اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ موجودہ عالمی نظام پہلے ہی کئی بحرانوں کا شکار ہے۔ یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی معیشت کی غیر یقینی صورتحال نے دنیا کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں ایک نئی جنگ نہ صرف انسانی المیے کو جنم دے گی بلکہ عالمی معیشت کو بھی مزید عدم استحکام سے دوچار کر دے گی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین کی رکاوٹیں اور سرمایہ کاری کے رجحانات میں کمی جیسے عوامل دنیا بھر کے عام انسان کو متاثر کریں گے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے تصادم بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ختم ہوتے ہیں، مگر اس وقت تک نقصان ناقابلِ تلافی ہو چکا ہوتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع بھی اسی نوعیت کا ہے، جسے طاقت کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے اختلافات کو ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے دیکھیں اور عالمی امن کو ترجیح دیں۔پاکستان سمیت دیگر ممالک کی حالیہ سفارتی کوششیں اس امید کو تقویت دیتی ہیں کہ شاید اس بار دنیا ایک بڑے تصادم سے بچ جائے۔ تاہم یہ کامیابی صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریق سنجیدگی، برداشت اور دور اندیشی کا مظاہرہ کریں۔ طاقت کے اظہار کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دینا ہی اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز کے گرد منڈلاتے جنگ کے سائے اگرچہ گہرے ہیں، مگر ان کے درمیان امن کی ایک کرن بھی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ کرن اسی وقت روشنی میں بدل سکتی ہے جب عالمی برادری متحد ہو کر سفارت کاری کے عمل کو آگے بڑھائے اور پاکستان جیسے ممالک کی کوششوں کو تقویت دے۔ دنیا کو ایک اور جنگ نہیں بلکہ ایک پائیدار امن کی ضرورت ہے اور یہی وقت ہے کہ اس ضرورت کو حقیقت میں بدلا جائے۔


© Daily 92 Roznama