menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

آ غا خان سے پاکستان تک ...

17 0
21.05.2026

پاکستان کی سیاست میں شور بہت ہے الزام بہت ہیں نفرتیں بھی سستی ہو چکی ہیں مگر اس شور میں کچھ نام ایسے بھی ہیں جو بغیر نعرے لگائے تاریخ لکھ گئے آغا خان انہی ناموں میں شامل ہیں۔یہ وہ خاندان ہے جس نے پاکستان میں سیاست بھی دیکھی، سفارت بھی کی، تعلیم بھی دی، ہسپتال بھی بنائے، پہاڑوں میں روشنی بھی پہنچائی اور خاموشی سے ریاست کے اندر ریاستی طاقت پیدا کی۔آج جب ملک سیاسی تقسیم، معاشی دباؤ اور ادارہ جاتی کشمکش میں گھرا ہوا ہے تو ایسے وقت میں تاریخ کے کچھ دروازے دوبارہ کھولنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کیونکہ قومیں صرف جلسوں سے نہیں بنتیں… اداروں سے بنتی ہیں تعلیم سے بنتی ہیں اور ایسے لوگوں سے بنتی ہیں جو نسلوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں اگر چند بڑے نام نکال دئیے جائیں تو شاید پوری کہانی ادھوری رہ جائے سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوم انہی چند شخصیات میں سے ایک تھے 1906 کا شملہ وفد… وہ محض ایک ملاقات نہیں تھی وہ ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی شعور کا پہلا باقاعدہ اعلان تھا۔ آغا خان سوم نے وائسرائے لارڈ منٹو کے سامنے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی بات کی نمائندگی کی بات کی تشخص کی بات کی۔ اسی سال ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی اور آغا خان سوم اس کے پہلے مستقل صدر بنے یہیں سے وہ سیاسی سفر شروع ہوا جس نے آگے چل کر پاکستان کی شکل اختیار کی۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان صرف 1940 کی قرارداد سے پیدا نہیں ہوا تھا اس کے فکری بیج اس سے کئی دہائیاں پہلے بوئے جا چکے تھے آغا خان سوم ان لوگوں میں تھے جنہوں نے........

© Nawa-i-Waqt