راہیمہ بی بی کیس۔ دہشت ...
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 18 اپریل 2026 کو ہونے والی پریس بریفنگ نے ایک ایسے کیس کو منظر عام پر لایا جس نے نہ صرف سکیورٹی اداروں بلکہ عام شہریوں کو بھی گہرے غور و فکر پر مجبور کر دیا۔ راہیمہ بی بی، جو دالبندین کے رہائشی منظور احمد کی اہلیہ ہیں کہ اعترافی بیان نے ایک پیچیدہ اور منظم دہشت گرد نیٹ ورک کی پرتیں کھول دیں۔ ایسا نیٹ ورک جو نہ صرف سرحدوں کے پار پھیلا ہوا ہے بلکہ گھریلو ماحول تک سرایت کر چکا ہے۔یہ کیس محض ایک فرد یا ایک واقعہ کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں دہشت گرد تنظیمیں اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے معاشرتی ڈھانچوں، خاص طور پر خاندانوں کو بطور آلہ استعمال کر رہی ہیں۔گھریلو ماحول کا استحصال: ایک خطرناک رجحانراہیمہ بی بی کے بیان کے مطابق ان کے گھر کو ایک خاتون خودکش حملہ آور، زرینہ رفیق، کے لیے عارضی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ حقیقت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس اب محفوظ ٹھکانوں کے لیے روایتی خفیہ مقامات کے بجائے عام گھروں کا استعمال کر رہے ہیں۔یہ رجحان کئی خطرناک پہلوؤں کو جنم دیتا ہے:* گھریلو سطح پر نگرانی کا فقدان* خواتین اور بچوں کی غیر ارادی شمولیت* سماجی اعتماد کا مجروح ہوناایک عام گھر، جو تحفظ اور سکون کی علامت سمجھا جاتا ہے، اگر دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے لگے تو یہ معاشرتی بنیادوں کو ہلا دینے کے مترادف ہے۔خواتین کا استعمال: ایک نئی حکمت عملیاس کیس کا سب سے چونکا دینے والا پہلو خواتین کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ راہیمہ بی بی کے مطابق زرینہ رفیق نہ صرف ان کے گھر میں مقیم رہی بلکہ بعد ازاں افغانستان منتقل ہو کر تربیت حاصل کی اور پھر پاکستان میں خودکش حملہ کیا۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ:* خواتین کو شعوری یا غیر شعوری طور پر استعمال کیا جا رہا ہے* نفسیاتی دباؤ، جذباتی استحصال اور نظریاتی برین واشنگ اہم ہتھیار بن چکے ہیں* دہشت گرد تنظیمیں معاشرتی کمزوریوں کو نشانہ بنا رہی ہیںیہ تبدیلی محض آپریشنل نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے، جہاں خواتین کو ’’ کم مشکوک‘‘ ہونے کی بنیاد پر استعمال کیا جاتا ہے۔شناخت کا غلط استعمال: خاموش ہتھیار راہیمہ بی بی کے موبائل نمبر کا استعمال ان کے شوہر کی جانب سے دہشت گرد عناصر سے رابطے کے لیے کیا جانا ایک اور سنگین پہلو ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ:* ذاتی شناخت کو چھپنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے* خواتین کی شناخت کو بطور کور استعمال کیا جا رہا ہے* ڈیجیٹل ٹریکنگ کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ نہ صرف قانونی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے بلکہ متاثرہ خواتین کے لیے سماجی مسائل بھی جنم دیتا ہے۔سرحد پار روابط: ایک پرانا مگر زندہ مسئلہزرینہ رفیق کی افغانستان منتقلی اور وہاں تربیت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کا ڈھانچہ اب بھی فعال ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہونے والی کئی کارروائیوں کے پیچھے ایسے ہی نیٹ ورکس کارفرما رہے ہیں۔اہم نکات:* افغانستان بطور تربیتی مرکز* سرحدی نگرانی کے چیلنجز* بین الاقوامی تعاون کی ضرورتیہ پہلو واضح کرتا ہے کہ دہشت گردی اب صرف ایک داخلی مسئلہ نہیں بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح کا چیلنج ہے۔نظریاتی بیانیہ اور ذہنی تربیتسکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گردی کی بھرتی ایک مرحلہ وار عمل ہے:1 نظریاتی اثر و رسوخ2 ذہنی تیاری3 عملی تربیت4 آپریشنل تعیناتییہ عمل اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی صرف ہتھیاروں کی جنگ نہیں بلکہ خیالات کی جنگ بھی ہے۔سماجی کمزوریاں: داخلی دروازے راہیمہ بی بی کیس نے یہ بھی واضح کیا کہ:* جذباتی مسائل* خاندانی تنازعات* معاشی دباؤیہ سب عناصر دہشت گردی کے لیے’’انٹری پوائنٹس‘‘ بن سکتے ہیں۔ جب کوئی فرد خود کو تنہا یا بے بس محسوس کرتا ہے، تو وہ آسانی سے کسی بھی نظریے کا شکار ہو سکتا ہے۔یہ تمام حقائق ایک بڑے سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا ہم بطور معاشرہ اس بدلتی ہوئی جنگ کے لیے بیانیاتی جنگ، سماجی تاثر اور ریاستی ردعملراہیمہ بی بی کیس کا دوسرا رخ شاید پہلے سے بھی زیادہ پیچیدہ اور حساس ہے۔اور وہ ہے ’’ بیانیاتی جنگ‘‘۔ یہ وہ میدان ہے جہاں گولی نہیں چلتی، مگر اثرات کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔بیانیہ سازی: سچ اور تاثر کے درمیان جنگسکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، دہشت گرد تنظیمیں اب صرف حملوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ عوامی رائے کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ کام مختلف ذرائع سے کیا جاتا ہے:* سوشل میڈیا* انسانی حقوق کے نام پر پلیٹ فارمز* مقامی سطح پر بیانیہ سازیجب کوئی دہشت گرد کارروائی ناکام ہو جاتی ہے یا کوئی فرد گرفتار ہوتا ہے، تو اسے ‘‘لاپتہ فرد‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے:* ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھتا ہے* عوامی ہمدردی حاصل کی جاتی ہے* اصل حقیقت پس پردہ چلی جاتی ہےیہ حکمت عملی نہایت مؤثر ہے کیونکہ یہ جذبات کو نشانہ بناتی ہے۔سماجی پلیٹ فارمز کا کردارکچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بعض سماجی یا سیاسی پلیٹ فارمز، چاہے غیر ارادی طور پر ہی سہی، ایسے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں جو بعد میں دہشت گرد تنظیموں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔یہ ایک نازک معاملہ ہے کیونکہ:* آزادی اظہار اور قومی سلامتی کے درمیان توازن ضروری ہے* ہر تنقید کو دشمنی نہیں کہا جا سکتا* مگر ہر بیانیہ بھی بے ضرر نہیں ہوتایہاں دانشمندی، تحقیق اور ذمہ داری کی اشد ضرورت ہے۔دوہری حکمت عملی: تشدد + بیانیہسابق حکومتی نمائندوں کے مطابق، دہشت گرد تنظیمیں اب ایک ’’ دوہری حکمت عملی‘‘ اپناتی ہیں:1 زمینی سطح پر حملے2 ذہنی سطح پر اثر و رسوخیہ حکمت عملی اس لیے خطرناک ہے کیونکہ یہ نہ صرف جسمانی نقصان پہنچاتی ہے بلکہ معاشرتی اتحاد کو بھی کمزور کرتی ہے۔خواتین کا استحصال: ثقافتی اور اخلاقی تضادبلوچستان کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کا اس طرح استعمال بلوچ ثقافت کے خلاف ہے، جہاں خواتین کو عزت اور تحفظ دیا جاتا ہے۔اسی طرح مذہبی نقطہ نظر سے بھی:* خواتین کا استحصال ناقابل قبول ہے* خودکش حملے اخلاقی اصولوں کے منافی ہیںیہ تضاد اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں نہ ثقافت کا لحاظ رکھتی ہیں اور نہ مذہب کا۔ وہ صرف اپنے مقاصد کے لیے ہر حد پار کرتی ہیں۔ریاستی ردعمل: ایک جاری عملحکومت بلوچستان اور سکیورٹی اداروں کے مطابق:* انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں* فرانزک تحقیقات کی جا رہی ہیں* قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیںیہ ایک طویل اور پیچیدہ جنگ ہے جس میں صبر، حکمت اور مسلسل محنت درکار ہے۔آگے کا راستہ: ہم کیا کر سکتے ہیں؟یہ سوال سب سے اہم ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف ریاستی سطح پر ممکن نہیں، بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا:* گھریلو سطح پر آگاہی* نوجوانوں کی ذہنی رہنمائی* سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال* مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاعراہیمہ بی بی کیس ایک وارننگ ہے۔ ایک آئینہ جس میں ہم اپنی کمزوریاں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ دہشت گردی صرف سرحدوں پر نہیں، بلکہ ہمارے گھروں، ہمارے خیالات اور ہمارے معاشرتی ڈھانچوں میں بھی داخل ہو سکتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ خطرہ موجود ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس خطرے کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔اگر ہم نے بروقت شعور، اتحاد اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا، تو یہ جنگ صرف میدانوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ہماری نسلوں تک پھیل سکتی ہے اور اگر ہم نے سیکھ لیا، تو یہی بحران ایک مضبوط، باشعور اور متحد معاشرے کی بنیاد بھی۔ (جاری )
