menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

عاصم منیر کو خراجِ تحسین ...

9 0
saturday

دنیا جب جنگ کے دہانے پر کھڑی ہو، تو اصل امتحان ہتھیاروں کا نہیں بلکہ قیادت کے اعصاب کا ہوتا ہے۔ ایسے نازک لمحات میں عاصم منیر جیسے کردار سامنے آتے ہیں، جہاں ہر فیصلہ صرف ایک ملک نہیں بلکہ پورے خطے کے مستقبل کو متاثر کر سکتا ہے۔ خطے میں کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ برسوں میں اس کی شدت اور نوعیت دونوں بدل چکی ہیں ۔ طاقتور ممالک کے درمیان تناؤ، پراکسی تنازعات، اور سفارتی دباؤ یہ سب ایک ایسے ماحول کو جنم دیتے ہیں جہاں ایک غلط قدم بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ایسے حالات میں قیادت کا اصل ہنر یہی ہوتا ہے کہ وہ جذباتی ردعمل سے بچتے ہوئے، حالات کو ٹھنڈے دماغ سے سنبھالے۔ جنگی بیانیہ بنانا آسان ہے، مگر امن کا راستہ نکالنا مشکل۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حکمت، صبر اور دوراندیشی ایک ساتھ کام کرتی ہیں ۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جدید دنیا میں جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی۔ یہ معیشت ، میڈیا، اور سفارت کاری کے میدان میں بھی جاری رہتی ہے۔ ایک ذمہ دار قیادت وہی ہوتی ہے جو ان تمام پہلوؤں کو بیک وقت دیکھے، اور کسی ایک جذباتی فیصلے کو پورے نظام پر حاوی نہ ہونے دے۔اسی لیے آج کی قیادت کو صرف فوجی طاقت کا نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، عالمی حالات کی سمجھ، اور انسانی جانوں کی قدر کا بھی ادراک ہونا چاہیے۔ کیونکہ آخرکار، ہر جنگ کا انجام میز پر بیٹھ کر بات چیت ہی ہوتا ہے تو کیوں نہ آغاز ہی وہاں سے کیا جائے؟یہ قسط اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جنگ کے سائے میں سب سے بڑی کامیابی جنگ کو ٹال دینا  جنگ کے سائے میں حکمت کی بات ہم پچھلی قسط میں کر چکے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ جب توپیں خاموش ہوں تو اصل کھیل کہاں کھیلا جاتا ہے؟ اس کا جواب ہے: سفارت کاری۔ اور یہی وہ میدان ہے جہاں جدید قیادت اپنی اصل صلاحیت دکھاتی ہے۔ عاصم منیر کی حکمتِ عملی کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک بات نمایاں نظر آتی ہے خاموشی کے ساتھ آگے بڑھنا، بغیر شور کے اثر ڈالنا، اور بغیر اعلان کے نتائج حاصل کرنا۔ یہی اصل سفارت کاری ہے۔پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں ہر سمت طاقت کے مراکز موجود ہیں۔ مشرق میں ایک مستقل کشیدگی، مغرب میں غیر یقینی صورتحال، اور عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کا دباؤ ایسے میں توازن برقرار رکھنا کسی ایک بیان یا ایک ملاقات سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مسلسل رابطہ، اعتماد سازی، اور بیک ڈور ڈپلومیسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سفارت کاری کا سب سے اہم اصول یہی ہے کہ دروازے کبھی بند نہ کیے جائیں ۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مختلف عالمی قوتوں کے ساتھ ایک ایسا تعلق برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے جس میں تصادم کے بجائے مکالمہ غالب رہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سفارت کاری کا بڑا حصہ عوام کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے ۔ جو باتیں کیمروں کے سامنے نہیں آتیں، وہی اکثر سب سے زیادہ اہم ہوتی ہیں۔ ملاقاتیں، پیغامات، غیر رسمی رابطے یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ آج کی دنیا میں جنگ جیتنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ جنگ ہونے ہی نہ دی جائے۔ اور یہ کام صرف ہتھیار نہیں، بلکہ الفاظ، روئیے اور تعلقات انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مضبوط سفارتی حکمتِ عملی کسی بھی ملک کے لیے ڈھال کا کام کرتی ہے۔ ہم نے قیادت کی حکمت کی بات کی تھی، اور یہ قسط اس حکمت کے عملی اظہار یعنی سفارت کاری کو واضح کرتی ہے۔ کیونکہ آخرکار، طاقت وہی ہے جو بغیر شور کے اپنا اثر چھوڑ جائے داخلی استحکام کو ہم امن کی بنیاد قرار دے چکے ہیں، مگر جب ایک ریاست اپنے اندر مضبوط ہو جائے تو اگلا مرحلہ عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ملک محض تماشائی نہیں رہتا بلکہ حالات کو متاثر کرنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے۔عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے عالمی سفارت کاری کے میدان میں ایک متوازن اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ راستہ آسان نہیں ، کیونکہ یہاں ہر قدم پر بڑی طاقتوں کے مفادات ، علاقائی سیاست، اور عالمی دباؤ ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ عالمی سفارت کاری کا اصل کمال یہی ہے کہ مختلف طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے ۔ نہ مکمل جھکاؤ، نہ غیر ضروری تصادم بلکہ ایک ایسا مؤقف جو اپنے قومی مفاد کو بھی محفوظ رکھے اور عالمی امن میں بھی کردار ادا کرے۔پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے ایک خاص اہمیت دیتی ہے۔ یہ ملک مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں ہونے والی سفارتی سرگرمیاں صرف مقامی نہیں بلکہ عالمی اثرات رکھتی ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کی دنیا میں وہی ممالک مؤثر سمجھے جاتے ہیں جو تنازعات کو کم کرنے میں کردار ادا کریں۔ جنگ کو ہوا دینا آسان ہے، مگر اسے روکنا ہی اصل کامیابی ہے۔ پاکستان نے مختلف مواقع پر یہی کوشش کی کہ کشیدگی کو کم کیا جائے اور بات چیت کے لیے راستہ نکالا جائے۔عالمی سطح پر اعتماد حاصل کرنا ایک دن کا کام نہیں ہوتا۔ یہ مسلسل رویوں، فیصلوں اور پالیسیوں سے بنتا ہے۔ جب ایک ملک بار بار ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا ہے، تو دنیا اسے سنجیدگی سے لینا شروع کر دیتا ہے ہم نے داخلی استحکام کو بنیاد قرار دیا تھا ، اور یہ قسط اس بنیاد پر کھڑی ہونے والی عالمی عمارت کی تصویر پیش کرتی ہے ۔ کیونکہ جب اندر اتحاد ہو اور باہر توازن، تو ہی ایک ملک حقیقی معنوں میں امن کا علمبردار بن سکتاہے داخلی استحکام کو ہم امن کی بنیاد قرار دے چکے ہیں، مگر جب ایک ریاست اپنے اندر مضبوط ہو جائے تو اگلا مرحلہ عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ملک محض تماشائی نہیں رہتا بلکہ حالات کو متاثر کرنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے۔پچھلی قسطوں میں ہم نے دیکھا کہ کیسے حکمت، سفارت کاری اور جرات مندانہ فیصلے ایک ساتھ مل کر ایک مضبوط کردار بناتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں اْس پہلو کی، جو سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے دنیا کی نظر میں پاکستان اور اس کی قیادت کی پہچان۔ عاصم منیر کا نام آج صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا، بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک سنجیدہ اور ذمہ دار قیادت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جب دنیا میں کشیدگی بڑھتی ہے، تو نظریں اْن ممالک اور شخصیات کی طرف اٹھتی ہیں جو آگ کو بجھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں، نہ کہ اسے بھڑکانے کی۔بدلتی ہوئی دنیا میں اب طاقت کا مطلب صرف ہتھیار نہیں رہا۔ آج اصل طاقت یہ ہے کہ کون دلوں کو جوڑ سکتا ہے، کون بات چیت کا راستہ کھول سکتا ہے، اور کون اختلاف کو دشمنی بننے سے روک سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی رہنما بھی ایسے کردار کو اہمیت دیتے ہیں جو توازن اور امن کی بات کرے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنما ہوں یا دیگر عالمی شخصیات، ہر ایک کے لیے یہ بات اہم ہوتی ہے کہ خطے میں کوئی ایسا کردار موجود ہو جو کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دے سکے۔ پاکستان کا امیج بھی اسی تناظر میں ابھرتا ہے ایک ایسا ملک جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا میں امن اور استحکام کے لیے کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک بڑا دعویٰ ضرور ہے ، مگر اس کے لیے مسلسل کوشش، مستقل مزاجی اور واضح نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔عوامی سطح پر بھی یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ دنیا کو اب جنگوں سے زیادہ امن کی ضرورت ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ رہنما ایسے فیصلے کریں جو آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل چھوڑ جائیں، نہ کہ مزید مسائل۔ یہ قسط دراصل اْس بدلتی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک ملک اور اس کی قیادت عالمی سطح پر ایک مثبت کردار کے طور پر سامنے آتی ہے۔پچھلی قسطوں میں جو بنیاد رکھی گئی تھی، یہاں آ کر وہ ایک مکمل تصویر بن جاتی ہے ایک ایسا بیانیہ جو طاقت کے ساتھ ساتھ امن کو بھی اہمیت دیتا ہے آج کی دنیا میں سب سے بڑا لیڈر وہی ہے جو جنگ جیتنے کے بجائے امن قائم کرے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جس کی طرف دنیا آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے ہم نے اس سیریز کے آغاز سے لے کر اب تک ایک مکمل تصویر بنانے کی کوشش کی جنگ کے سائے، سفارت کاری کے پہلو، داخلی استحکام، عالمی کردار اور جرات مندانہ فیصلے۔ اب وقت ہے کہ اس پوری کہانی کو ایک جگہ سمیٹا جائے۔عاصم منیر کا کردار اس سفر میں ایک ایسے سپاہی کا رہا، جو صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ سوچ اور حکمت کے میدان میں بھی اپنا اثر رکھتا ہے۔ یہ وہ قیادت ہے جو مشکل وقت میں راستہ تلاش کرتی ہے، اور آسان راستے کے بجائے درست راستے کا انتخاب کرتی ہے۔ دنیا آج ایک عجیب دور سے گزر رہی ہے کہیں جنگ، کہیں کشیدگی، کہیں بے یقینی۔ ایسے میں ہر ملک اور ہر رہنما کا امتحان ہے کہ وہ اس صورتحال میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔ کیا وہ آگ میں اضافہ کرتا ہے یا اسے بجھانے کی کوشش کرتا ہے؟عالمی سطح پر بھی یہی رجحان سامنے آ رہا ہے کہ اب تصادم کے بجائے تعاون کی ضرورت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنما ہوں یا دیگر عالمی شخصیات، سب کے بیانیے میں کہیں نہ کہیں یہ احساس موجود ہے کہ دنیا کو مزید تنازعات نہیں بلکہ استحکام درکار ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے کردار کو مثبت انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرے۔ ایک ایسا ملک جو صرف اپنے مسائل میں الجھا نہ رہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔یہ سیریز دراصل ایک پیغام ہے کہ طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ نیت، حکمت اور امن کی خواہش میں بھی ہوتی ہے۔ ایک سپاہی صرف لڑتا نہیں، بلکہ کبھی کبھی سب سے بڑی جیت یہ ہوتی ہے کہ لڑائی کو ہونے ہی نہ دیا جائے۔ امن کوئی کمزوری نہیں، بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے اور وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اس طاقت کو سمجھ لیں۔


© Nawa-i-Waqt