menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

خاموش سودے، اونچی قیمتیں

15 0
15.04.2026

دنیا کے نقشے پر اس وقت جو لکیریں کھینچی جا رہی ہیں، وہ صرف سرحدیں نہیں بلکہ آنے والے عشروں کی تقدیر ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی بازگشت ایک بار پھر سنائی دے رہی ہے لیکن یہ کوئی سادہ سفارتی عمل نہیں، بلکہ طاقت، مفاد اور بقا کی ایک پیچیدہ بساط ہے۔امریکہ، جس نے دہائیوں تک ایران کو دباؤ، پابندیوں اور عالمی تنہائی کے ذریعے قابو میں رکھنے کی کوشش کی، اب خود ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں اسے مشرق وسطیٰ میں اپنے کردار کو ازسرِ نو ترتیب دینا پڑ رہا ہے۔ افغانستان سے انخلا، یوکرین جنگ کی تھکن، اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر نے واشنگٹن کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے پرانے دشمنوں سے بھی بات کرے حتیٰ کہ ایران سے بھی۔دوسری طرف ایران، جو پابندیوں کے بوجھ تلے دب کر بھی اپنی علاقائی طاقت کو وسعت دیتا رہا، اب ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں اسے معاشی سانس لینے کی شدید ضرورت ہے۔ مگر یہ ضرورت اسے کمزور نہیں بناتی بلکہ خطرناک بناتی ہے۔ ایک ایسا ملک جو بقا کی جنگ لڑ رہا ہو، وہ سودے بازی میں زیادہ بے رحم ہوتا ہے۔ ان مذاکرات کے پیچھے اصل سوال ایٹمی پروگرام نہیں اصل سوال طاقت کی تقسیم ہے۔ خلیج میں کس کا غلبہ ہوگا؟ اسرائیل کی سیکیورٹی کیسے یقینی بنائی جائے گی؟ اور سب سے بڑھ کر، چین اور روس کو اس کھیل میں کہاں روکا جائے گا؟اسی دوران، ایک اور غیر متوقع خبر گردش کر رہی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورہ اسلام آباد کی باتیں۔ اگر یہ محض افواہ بھی ہے، تب بھی اس کے اثرات حقیقی ہیں۔ ٹرمپ ایک ایسا کردار ہے جو روایتی سفارت کاری کو توڑ کر براہ راست سودے کرتا ہے۔ اگر وہ واقعی پاکستان کا رخ کرتے ہیں، تو یہ صرف ایک دورہ نہیں ہوگا یہ ایک اشارہ ہوگا کہ امریکہ جنوبی ایشیا میں اپنی پوزیشن کو دوبارہ ترتیب دینا چاہتا ہے۔ پاکستان، جو ہمیشہ بڑی طاقتوں کے درمیان ایک شطرنج کی بساط رہا ہے، اب ایک بار پھر مرکزِ توجہ بن سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا پاکستان اس بار بھی صرف ایک مہرہ ہوگا، یا کھلاڑی بننے کی کوشش کرے گا؟دنیا ایک نئے سرد جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن یہ جنگ ٹینکوں اور میزائلوں سے نہیں، بلکہ معیشت، توانائی اور سفارت کاری کے ذریعے لڑی جائے گی۔ اور اس جنگ میں وہی جیتے گا جو کمزور نظر آ کر بھی مضبوط چال چلے۔ یہ صرف آغاز ہے۔ آنے والا طوفان اور خاموش تماشائیاگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہوتا ہے، تو دنیا اسے امن کی جیت قرار دے گی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہو سکتی ہے۔ ایسے معاہدے اکثر جنگوں کو ختم نہیں کرتے بلکہ انہیں نئی شکل دیتے ہیں۔ ایران کو اگر معاشی ریلیف ملتا ہے، تو وہ اپنی علاقائی پالیسیوں میں مزید جارحانہ ہو سکتا ہے ۔ عراق، شام، لبنان اور یمن میں اس کا اثر مزید مضبوط ہو گا ۔ اس کے مقابلے میں سعودی عرب اور اسرائیل اپنے دفاعی اور جارحانہ اقدامات کو بڑھائیں گے۔ نتیجہ؟ ایک ایسا خطہ جو بظاہر پرسکون، مگر اندر سے بارود سے بھرا ہوگا۔ امریکہ کے لیے یہ ایک وقتی کامیابی ہو سکتی ہے لیکن طویل مدت میں یہ اس کے اپنے اتحادیوں کو غیر یقینی کا شکار کر دے گی۔ جب بڑے ممالک اپنے مفادات کے لیے پالیسی بدلتے ہیں، تو چھوٹے ممالک کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔ اور جب اعتماد ٹوٹ جائے، تو اتحاد بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہتے۔اب آتے ہیں پاکستان کی طرفاگر ٹرمپ واقعی اسلام آباد آتے ہیں، تو وہ محض تعلقات کی بحالی نہیں ہوگی یہ ایک نئے سودے کی بنیاد ہوگی۔ ممکن ہے کہ پاکستان سے افغانستان، چین، یا حتیٰ کہ ایران کے حوالے سے کوئی کردار مانگا جائے۔ لیکن ہر کردار کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے اکثر یہ قیمت بہت مہنگی ادا کی ہے۔ سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ دنیا تیزی سے بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی، دوسری طرف چین، روس اور ان کے قریبی شراکت دار۔ اس تقسیم میں غیر جانبداری ایک خواب بنتی جا رہی ہے۔ ہر ملک کو کسی نہ کسی طرف جھکنا ہوگا اور یہی وہ لمحہ ہوگا جہاں اصل امتحان شروع ہوگا۔یہ آنے والا وقت سفاک ہے، کیونکہ اس میں اخلاقیات کی کوئی جگہ نہیں۔ صرف مفاد، طاقت اور بقا کی جنگ ہے۔ جو ملک اپنے فیصلے خود نہیں کرے گا، اس کے فیصلے اس کے لیے کیے جائیں گے۔ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں جنگیں اعلان کے بغیر ہوں گی، معاہدے بغیر اعتماد کے ہوں گے، اور امن صرف ایک عارضی وقفہ ہوگا۔ اور شاید سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ ہم سب اس کھیل کو دیکھ رہے ہیں لیکن اسے روکنے کی طاقت کسی کے پاس نہیں۔یہ مستقبل ہے اور یہ پہلے سے زیادہ قریب ہے جتنا ہم سمجھتے ہیںگزشتہ چند دنوں سے ایک سوال فضا میں معلق ہے: کیا واقعی Trump  Donald اسلام آباد آ رہے ہیں؟ یہ سوال محض ایک سیاسی خبر نہیں، بلکہ اس کے پیچھے عوامی بے چینی ، تجسس اور خدشات کی ایک پوری دنیا چھپی ہوئی ہے ۔سب سے پہلے افواہ کو سمجھتے ہیں۔افواہ یہ کہتی ہے کہ ٹرمپ کا ممکنہ دورہ پاکستان خطے میں ایک بڑے سفارتی ری سیٹ کا حصہ ہے۔ کچھ حلقے اسے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی نئی شروعات قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ اسے چین کے بڑھتے ہوئے اثر کے خلاف ایک جوابی چال سمجھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس افواہ نے ایک نئی کہانی بنا دی ہے کہ شاید پاکستان ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آنے والا ہے۔لیکن حقیقت کیا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ اس وقت نہ تو کسی سرکاری سطح پر اس دورے کی تصدیق ہوئی ہے، اور نہ ہی کوئی واضح سفارتی شیڈول سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ، جو اس وقت امریکی سیاست میں دوبارہ فعال کردار کے لیے کوشاں ہیں، عام طور پر اپنے غیر روایتی اور چونکا دینے والے فیصلوں کے لیے جانے جاتے ہیں ۔ مگر کسی بھی سابق یا ممکنہ صدر کا دورہ محض خواہش یا افواہ پر نہیں ہوتا اس کے پیچھے مہینوں کی سفارتی تیاری، سیکیورٹی پلاننگ اور سیاسی مفادات ہوتے ہیں۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ٹرمپ آئیں بھی، تو کیوں آئیں گے؟ جواب سادہ نہیں، مگر واضح ہے۔ اگر States  United کو خطے میں دوبارہ اپنا اثر بڑھانا ہے، تو Pakistan کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ افغانستان کے بعد کی صورتحال، چین کا سی پیک کے ذریعے اثر، اور ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات یہ سب عوامل پاکستان کو ایک بار پھر اہم بنا دیتے ہیں۔ مگر یہاں ایک تلخ حقیقت بھی ہے: عالمی طاقتیں دوستی نہیں کرتیں، مفادات کا سودا کرتی ہیں۔لوگوں کا دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ دورہ پاکستان کے لیے فائدہ مند ہوگا؟ اس کا جواب نہ مکمل ہاں ہے، نہ مکمل نہیں۔ اگر پاکستان اس موقع کو سمجھداری سے استعمال کرے، تو یہ ایک سفارتی توازن پیدا کرنے کا موقع ہو سکتا ہے امریکہ ، چین اور دیگر طاقتوں کے درمیان ایک متوازن پوزیشن۔ لیکن اگر یہ محض وقتی فائدے یا دباؤ کے تحت کیا گیا فیصلہ ہوا، تو اس کے اثرات طویل مدت میں نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔تیسرا سوال: کیا یہ سب امریکہ اور ایران مذاکرات سے جڑا ہوا ہے؟ بالواسطہ طور پر، ہاں۔ Iran کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کا اثر پورے خطے پر پڑے گا۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرتا ہے، تو وہ اپنی توجہ دیگر علاقوں خصوصاً چین کی طرف مرکوز کرے گا۔ ایسے میں پاکستان کی اہمیت بطور ایک جغرافیائی اور سفارتی پل بڑھ جاتی ہے۔ لیکن یہاں ایک اور زاویہ بھی ہے جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی سیاست روایتی نہیں ہے۔ وہ اداروں سے زیادہ ذاتی تعلقات اور براہ راست سودے پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر وہ پاکستان آتے ہیں، تو یہ ایک رسمی دورہ کم اور ایک پیغام زیادہ ہوگا ایک ایسا پیغام جو بیک وقت چین، ایران اور حتیٰ کہ بھارت کو بھی دیا جائے گا۔اب سب سے اہم سوال: کیا واقعی ٹرمپ آئیں گےسچ یہ ہے کہ اس وقت یہ امکان کمزور مگر ناممکن نہیں ہے یہ ایک ایسی افواہ ہے جس کے پیچھے کچھ زمینی حقیقتیں ضرور موجود ہیں یہ حقیقت بھی ہو سکتی ہے خطے کی بدلتی سیاست، امریکہ کی نئی ترجیحات، اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت۔ لیکن جب تک کوئی واضح سفارتی اشارہ، سرکاری اعلان یا عملی پیش رفت سامنے نہیں آتی، اسے ایک سنجیدہ امکان کے بجائے ایک سیاسی قیاس آرائی ہی سمجھنا چاہیے۔آخر میں، ایک بات واضح کر لینی چاہیے ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں خبر اور افواہ کے درمیان فرق دھندلا چکا ہے۔ ہر اطلاع فوری سچ لگتی ہے، اور ہر سچ پر شک کیا جاتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم ہر خبر کو جذبات سے نہیں، بلکہ تجزئیے سے دیکھیں۔ٹرمپ کا ممکنہ دورہ ہو یا امریکہ،ایران مذاکرات،یہ سب بڑے کھیل کا حصہ ہیں اور اس کھیل میں اصل سوال یہ نہیں کہ کون آ رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیوں آ رہا ہے، اور اس کے بعد کیا ہوگا۔ شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت دے گا اور وہ جواب ہماری توقعات سے زیادہ سخت بھی ہو سکتا ہے۔


© Nawa-i-Waqt