علمائے کرام کی ٹارگٹ کلنگ: خیبرپختونخوا میں خوف کی فضا برقرار ، حکام خاموش
دین اسلام اللہ امن اور انسانیت کا درس دیتا ہے، اور جو اس جانب ترغیب دے اسے عالم کا درجہ دیا جاتا ہے، لیکن آج خیبرپختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ کا جو سلسلہ چل نکلا ہے، انتہائی خطرناک ہے، اگر دیگر مقامات پر ہونے والے حملوں کے ساتھ ساتھ اب دینی مدارس اور علمائے کرام کی ٹارگٹ کلنگ نے معاملات گھمبیر بنا دیئے ، جس سے خیبرپختونخوا حکومت پر سوالات اٹھنا لازمی امر ہے۔ مولانا ادریس شہید کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ پاک افغان کشیدگی میں کمی کیلئے منتخب جرگہ میں بھی شامل رہے، جنہوں نے افغانستان جا کر امن کی بات کی لیکن آج وہ خود بے امنی کا شکار ہو کر شہادت کے منصب پر فائز ہو گئے۔ آج صوبہ بھر میں سنیچنگ اور فائرنگ کے واقعات اس حد تک بڑھ گئے ہیں لوگ اسے ایک عام سی بات سمجھنے لگے ہیں، جبکہ اس سلسلے میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل بھی ترتیب نہیں دیا جا رہا۔ آج ضلع چارسدہ سمیت خیبرپختونخوا میں علمائے کرام کی بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ نے صوبے کی فضا کو سوگوار کر دیا ہے، اس لامتناہی دردناک سلسلے میں سب سے تازہ واقعہ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی دن دیہاڑے شہادت کا ہے، جس نے نہ صرف ان کے........
