آبنائے ہرمز بندش کے عالمی معیشت پر اثرات؟
اسرائیل و امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے بعد جب ایران نے دو ہفتوں کیلئے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تو پھر اسے دوبارہ سے بند کر دیا، اس کے حوالے سے جواز یہ دیا جا رہا تھا کہ یہاں موجود بارودی سرنگیں خطرناک ہو سکتی ہیں جبکہ ایک اور جگہ یہ کہا جا رہا تھا کہ ایران نے یہ اقدام اسرائیل کے لبنان پر حملے پر اٹھایا، یوں چاہے کچھ بھی ہو آبنائے ہرمز بندش اور محصولات وصولی کے عالمی اقتصادی صورتحال پر گہرے اثرات ہو سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بندش سے دوسرے راستوں کی اہمیت مزید اجاگر ہوتی ہے اور اس سے ان کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے، یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ایران نے جہاں اس اہم گزرگاہ کو بند کیا تو ساتھ ہی اس کی وضاحت بھی کردی اور اس کے متبادل راستے بھی دینے کا کہا، لیکن یہ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس گزرگاہ کا کنٹرول جس کے پاس ہوگا دنیا بھر کی معیشت اس کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس جنگ بندی سے جہاں عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کا امکان ہے وہیں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز کو دیکھا جائے تو اس میں کوشش کی گئی ہے کہ ہرمز کی تنگ گزرگاہ پر ایران ہی کا کنٹرول مستقل طور پر برقرار رہے، اور اس کے........
