7 ارب ڈالر کا سراب اور ایم او یوز کی روایتی فیکٹریاں
ہانگژو میں دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے بزنس مین اور پاکستانی حکام بیٹھے تھے، قلم کاغذ پر چل رہے تھے اور سات ارب ڈالر کے معاہدوں (MOU's) کی فائلیں ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہو رہی تھیں۔ لگ تو ایسا ہی رہا تھا کہ بس پاکستان دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت بننے والا ہے۔ یہ خام سوچ تھی کیونکہ پاکستان میں دھماکوں کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے لڑ رہی ہوں۔
جہاں بدامنی کی فضا نے مقامی سرمایہ کاروں کو بھی سرمائے کی پرواز پر مجبور کر دیا ہو۔ وہاں 7 ارب ڈالر کا غیر ملکی سرمائے کا آنا کوئی عام معاشی واقعہ نہیں ہے۔ سرمایہ کاری کرتے وقت معاشیات یہ اصول فراہم کرتا ہے کہ ’’تحفظ اور قانون کی بالادستی‘‘ کو پہلے دیکھا جائے۔
میری اپنی رائے یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار ملک کی جی ڈی پی گروتھ انفلیشن اور دیگر معاشی اشاریوں کو پہلے ایک طرف کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ پہلے یہ بتاؤ کہ امن و امان کی صورت حال کیا ہے؟ میری جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات موجود ہیں، رشوت........
