نکسل باڑی تحریک ، 59 برس بعد
برصغیر میں، کامریڈ چارو مجمدار کا شمار ممتاز انقلابی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ 15 جولائی 1919 کوایک جاگیردار خاندان میں پیدا ہوئے۔ان کے والد آزادی پسند تھے، جنھوں نے ہندوستان میں برطانوی سامراج مخالف جدوجہد میں حصہ لیا۔
1938 کے دوران جب کالج میں زیر تعلیم تھے، تو آزادی کے پرجوش نعرے ان کے کانوں میں گونجنے لگے۔ اس وقت انھوں نے کالج کو خیرباد کہا اور’’کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(CPI)، جو برصغیر کی تیسری بڑی جماعت تھی،اس میں شمولیت اختیار کر لی، جہاں انھیں کسان محاذ پر کام کرنے کی ذمے داری سونپی گئی۔
برطانوی سامراجی حکام کو ان کی سرگرمیوں کا علم ہو گیا اور فوراً کامریڈ چارو مجمدار کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی بائیں بازو کے کارکن کے خلاف اس قسم کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں وہ روپوش ہو گئے اور اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
اگرچہ دوسری جنگ عظیم کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (CPI) پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، لیکن کامریڈ چارو نے پارٹی کی سرگرمیاں ترک نہیں کیں اور پارٹی کا کام جاری رکھا۔ 1942ء میں انھیں سی پی آئی کی جلپائی گوڑی ڈسٹرکٹ کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا۔
جب 1943میں شدید قحط پڑا تو انھوں نے اناج کی ترسیل پر برطانوی حکومت کے کنٹرول کے خلاف ایک تحریک شروع کی اور دارجلنگ میں کسانوں اور زرعی مزدوروں کو متحد کیا۔ انھوں نے جاگیرداروں اور ان کے کارندوں کے حوالے سے کسانوں میں شعور بیدار کیا۔
ایک ایسی تحریک جسے تیبھاگا Tebhaga تحریک کے سے یاد کیا جاتا ہے،اس تحریک کا مرکز مشرقی بنگال کا خطہ تھا۔ یہ ایک ایسی تحریک تھی جو جاگیردارانہ نظام میں پنہاں........
