menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

مغرب میں فلسطین دوست کتابیں لکھنا آسان نہیں ہے

14 0
friday

بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒارضِ فلسطین ،اہلِ فلسطین اور فلسطینیوں کی تحریکِ آزادی کے زبردست حامی اور صہیونی اسرائیل کے مخالف تھے۔ اِس ضمن میں قائد اعظم کے کئی تاریخی ارشاداتِ گرامی پیش کیے جا سکتے ہیں ۔ پاکستان اور تحریکِ آزادیِ فلسطین ہم عمر ہیں۔

صہیونی اسرائیل کو بجا طور پر عالمِ اسلام کے قلب میں گڑھا خنجر کہا جاتا ہے۔ صہیونی اسرائیل کے ناجائز اور توسیع پسندانہ اقدامات کی بنیاد پر اب تک مشرقِ وسطیٰ میں کئی خونریز جنگیں ہو چکی ہیں۔ اِن جنگوں میں اُردن ، مصر اور شام نے مرکزی کردار ادا کیا۔ تاسف انگیز بات مگر یہ ہے کہ تینوں مذکورہ اسلامی ممالک ، مل کر بھی ، صہیونی اسرائیل کو شکست نہ دے سکے ۔ارضِ فلسطین اور فلسطینی ہنوز اسرائیلی دباؤ اور قبضے میں ہیں۔

حال ہی میں صہیونی اسرائیل اور فلسطینی جنگجو تنظیم ، حماس، میں جو دو سالہ خونریز جنگ ہُوئی ہے ، اِس میں اسرائیل کے تو تین ہزار سے بھی کم فوجی اور سویلین مارے گئے ، مگر فلسطین ( غزہ) کے تقریباً ایک لاکھ بیگناہ شہری شہید کر ڈالے گئے ۔ غزہ کے جو لاکھوں افراد زخمی ہو کر عمر بھر کے لیے اپاہج ہو گئے ، وہ کسی قطار شمار ہی سے باہر ہیں ۔

تمام ترمسائل کے باوجود پاکستان آزادیِ فلسطین کا پرچم اُٹھانے والے جری اور غیور فلسطیینیوں کے ساتھ استقامت سے کھڑا ہے ۔ پاکستان اور کئی پاکستانی تنظیمیں اہلِ فلسطین کو مسلسل اخلاقی اور انسانی اعانتیں بھی فراہم کررہی ہیں ۔ 17اکتوبر2026 کو کاکول میں پاکستان ملٹری کیڈٹس کی گریجویٹ تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے جنرل سید عامر رضا نے جو شاندار اور دلوں کو گرما دینے والا خطاب کیا، اِس میں بھی فلسطینی کاز کے ساتھ پاکستان کی مرکزی پالیسی کی بازگشت سنائی دی گئی۔ یہ بازگشت درحقیقت بانیِ پاکستان کے وضع کردہ اصولوں ہی کی تصویر ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ عالمِ اسلام صہیونی اسرائیل کی مرکزی و معروف پشتیبان امریکی ومغربی قوتوں کی اجتماعی طاقت کے سامنے بے بس ہے ۔ اِسی لیے ، تمام تر........

© Express News