menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ایک ڈاکومنٹری

15 0
sunday

نیٹ فلکس دیکھتے ہوئے ڈاکومنٹریز کے سیکشن میں کچھ بہت ہی شاندار فلمیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ ایسی چیزیں جنھیں دیکھنے کے بعد آدمی صرف اسکرین بند نہیں کرتا بلکہ کچھ دیر سوچتا رہتا ہے کہ دنیا میں کتنے لوگ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے زمانے کے معمول کو چیلنج کیا،کتنی عورتیں ایسی تھیں جنہوں نے اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے راستے بنائے اور کتنی آوازیں ایسی تھیں جنھیں خاموش کرنے کی ہرممکن کوشش کی گئی مگر وہ پہلے سے زیادہ بلند ہو کر واپس آئیں۔

ایسی ہی ایک ڈاکومنٹری گلوریا اسٹینم کے بارے میں دیکھنے کو ملی۔ گلوریا اسٹینم جو امریکی نسائی تحریک کی ایک نمایاں آواز صحافی، مصنفہ اور سماجی کارکن رہی ہیں۔

گلوریا اسٹینم کا نام آتے ہی ذہن میں ایک ایسی عورت کا تصور ابھرتا ہے جس نے عورت کی آزادی کو محض لباس، ملازمت یا ذاتی انتخاب کا مسئلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے سماج کے پورے ڈھانچے سے جوڑ کر دیکھا۔

ان کے نزدیک عورت کی آزادی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس کے معاشی، سیاسی اور سماجی حالات تبدیل نہ ہوں۔ وہ عورت جو اپنے جسم پر اختیار نہیں رکھتی، جو اپنی محنت کی اجرت خود طے نہیں کر سکتی، جو گھر میں تشدد سہنے پر مجبور ہے، جو اپنی اولاد کی پرورش کے لیے ریاست سے کوئی مدد نہیں پاتی اور جو اپنے مستقبل کے فیصلے کسی دوسرے کی اجازت سے کرتی ہے، اسے صرف یہ کہہ دینا کہ تم آزاد ہو، آزادی کا مذاق ہے۔

گلوریا اسٹینم 1934 میں پیدا ہوئیں۔ ان کا بچپن بھی کسی روایتی آسودہ گھرانے کی محفوظ چاردیواری میں نہیں گزرا۔ ان کے والد کی کوئی مستقل آمدنی نہیں تھی اور اس وجہ سے خاندان کی معاشی حالت میں عدم استحکام رہا۔

ان کی والدہ نے اپنی زندگی میں ذہنی صحت کے مسائل اور معاشرتی تنہائی کا سامنا کیا۔ شاید یہی تجربات تھے جنہوں نے گلوریا کو بہت کم عمری میں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ عورت کی زندگی کو صرف اس کی ذاتی صلاحیتوں سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے پیچھے خاندان، معیشت، سماج اور ریاست کے فیصلے بھی موجود ہوتے ہیں۔

صحافت میں آنے کے بعد گلوریا نے جلد محسوس کر لیا کہ عورتوں کے لیے صحافت کی دنیا بھی برابر کی دنیا نہیں۔ انھیں اکثر خوب صورت چہرے، دلچسپ شخصیت یا کسی مرد صحافی کے مقابلے میں ایک اضافی چیز سمجھا جاتا تھا۔

ان کی ذہانت اور تحقیق سے زیادہ ان کے لباس، عمر اور ظاہری شخصیت پر گفتگو کی جاتی۔ یہ تجربہ کسی ایک ادارے کا نہیں تھا، یہ پورے سماج کا رویہ تھا۔ عورت اگر ذہین ہو تو اسے خطرناک کہا جاتا ہے، اگر خوب صورت ہو تو اسے سنجیدہ نہیں لیا........

© Express News