سسٹم بیٹھ گیا
زبردستی کے رشتے نہیں جوڑے جاتے۔ محسن نقوی نے جو کہا، وہ ان کی نظر میں کیا معنی رکھتا ہے، وہ ایک جدا معاملہ ہے، مگر کسی عمرانی معاہدے کا وجود میں آنا تمام لوگوں کی آمادگی اور رضامندی پر منحصر ہے۔ آپ چاہیں، یہ شق معاہدے میں تحریری طور پر نہ ڈالیں، مگر یہ شق پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے۔
ایک عمرانی معاہدے سے بڑا معاہدہ بھی اپنا وجود رکھتا ہے، جس کو ہم کائناتی معاہدہ سمجھتے ہیں اور اس کو فزکس کے نام سے جانا جاتا ہے، جو قوانین اور شقیں جو اس کے اندر موجود ہیں، نیوٹن، آئن اسٹائن، ڈاکٹر عبدالسلام، اسٹیفن ہاکنگز جیسے عظیم سائنس دانوں نے دریافت کیں۔
میری بات ذرا غور طلب ہے کہ میں نے لفظ ایجاد نہیں بلکہ دریافت کہا ہے، کیونکہ ایسا بھی ہوا کہ اگلے زمانوں میں ان دریافتوں کو رد بھی کیا گیا، جب جدید تحقیقات سامنے آئیں، یعنی پرانی دریافت میں کوئی جدید تحقیق کے ذریعے جو بات رہ گئی تھی، وہ منظر عام ہوئی۔
تبدیلیاں، ایجادات میں آتی ہیں۔ اردشیر کاؤس جی جیسے لوگ بھی تھے جو اپنی ہر بات میں انتہائی صاف گو تھے۔ ان کو گھما پھرا کر بات کرنا آتی ہی نہ تھی۔ ’’سارا رومن امپائر بھی ٹوٹ گیا۔‘‘ نظریہ ضرورت بھی تحریری طور پر کسی کتاب میں موجود نہیں، مگر حقیقت میں ہے۔ نظریہ ضرورت، بشمول امریکا، صدیوں سے جمہوری اقدار پر چلتی ریاستوں میں کہیں نظر نہیں آئے گا، مگر ہم جیسے ممالک میں اس کا وجود ہے۔ میر تقی میر کو کائنات کی فزکس میں کچھ ایسا نظر آیا۔
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ ِ شیشہ گری کا
بڑے محتاط اور پیچیدہ خم ہیں، یہ کوئی میدان جنگ نہیں کہ جہاں صرف kinetic زبان چلتی ہے۔ بازوئے شمشیر سے جنگیں، فتوحات وغیرہ ہو سکتی ہیں، جب کہ معاہدے رضامندی سے ہوتے ہیں۔ کیلسن نے نظریہ ضرورت ایجاد نہیں کیا بلکہ دریافت کیا تھا۔
یہ بھی کیا خوب ہوا کہ کیلسن کے اس نظریے کو جو زمین راس آئی، وہ ہماری سرزمین تھی۔ اس نظریے کو کسی ملک یا ریاست میں اتنی اہمیت نہ ملی، مگر اس نظریے کو جس زمین نے اپنایا، وہ سرزمین پاکستان کی تھی۔ اس سرزمین میں جو بیج بوئے گئے اور پانی دیا........
