Chasham Deed Gawah
محمد سعید مہدی صاحب کو سول بیوروکریسی کا امام بھی کہا جاسکتا ہے، ممکن ہے کچھ لوگ ان کے مقتدی بننے سے گریزاں رہے ہوں مگر ان کی قیادت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ انھیں سول سروس کی dream postings ملتی رہیں، راولپنڈی، لاہور اور اسلام آباد، افسروں کے پسندیدہ ترین شہر سمجھے جاتے ہیں، وہ تینوں جگہوں پر پہلے ڈی سی اور پھر کمشنر رہے اور پھر انھوں نے سول سروس کی آخری چوٹی بھی سر کرلی یعنی پرائم منسٹر کے پرنسپل سیکریٹری بھی رہے۔
میاں نوازشریف کے پہلے دو ادوار میں جتنا اثر ورسوخ انھیں حاصل تھا اتنا زرداری صاحب کے پہلے دورِ صدارت میں شاید سلمان فاروقی کو حاصل ہو تو ہو مگر کوئی تیسرا بیوروکریٹ اتنا طاقتور نہیں رہا، ان کے کیرئیر کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ وہ مشرف دور میں ناکردہ جرم کی پاداش میں گرفتار ہوگئے اور دو سال جیل میں رہے۔ انھوں نے آزمائش کا یہ دور ہمّت سے گذارا اور حوصلہ نہیں ہارا۔ وہ نوکری اور عہدے سے محروم کردیے گئے مگر پسِ دیوارِ زنداں رہ کر انھوں نے زندگی کے بہت کارآمد سبق حاصل کیے ہوں گے، جن کی کچھ جھلک ان کی خودنوشت میں بھی نظر آتی ہے۔
سروس کے علاوہ میرے ان کے ساتھ دو تعلّق اور بھی ہیں، وہ کیڈٹ کالج حسن ابدال سے پڑھے ہیں اور میں بھی ابدالین ہوں، وہ ہم سے بہت سینئر تھے، کیڈٹ کالج کے بعد وہ بھی گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے اور میں نے بھی جی سی سے گریجوایشن کی، لہٰذا میں بھی ان کی طرح ابدالین بھی ہوں اور راوین بھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ میرے ہی کہنے پر اولڈ راونینز ایسوسی ایشن کے ساتھ وابستہ ہوئے اور اسلام آباد چیپٹر کے صدر رہے جب کہ ممتاز شیخ (مرحوم) اس کے جنرل سیکریٹری اور راقم چیف آرگنائزر تھا۔ اُس وقت میں اسلام آباد (نیشنل پولیس اکیڈیمی) میں تعینات تھا اور ہم نے مل کر وفاقی دارالحکومت میں کئی یادگار تقریبات منعقد کیں، ایک بار ہماری........
